جبل استقامت مولانا اعظم طارق شہید

to Umar

جبل استقامت مولانا اعظم طارق شہید  
جرنیل سپاہِ صحابہؓ ، جبل استقامت، مردِ آہن، ثانی امام احمد بن حنبل مولانا محمد اعظم طارق نے ساری زندگی تحفظ ناموسِ اصحابِؓرسولﷺکے لئے مصائب و آلام کی وادیاں عبور کرتے ہوئے گزاری،
آپ 28مارچ 1961ءضلع ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی کے نواحی گاو ¿ں 111/7R میں پیدا ہوئے۔ مولانا اعظم طارق راجپوت قوم سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے والد کا نام حاجی فتح محمد تھا۔
آپ 1976ءتک اپنے آبائی دینی ادارے ”انوارالاسلام“ میں رہ کر عصری تعلیم پرائمری کے ساتھ ساتھ قرآن کریم بھی حفظ کرچکے تھے۔ 1977ءمیں ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ابتدائی فارسی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرچکے تھے۔ چیچہ وطنی کے دینی ادارے تجوید القرآن میں عربی، فقہ، حدیث، فلسفہ، منطق کے حصول کی خاطر داخلہ لیا۔ 1980ءمیں جامعہ عربیہ چنیوٹ میں داخل ہوئے، یہاں عالم عربی اور فاضل عربی کا کورس مکمل کیا۔ مدرسہ عربیہ نعمانیہ کمالیہ میں فقہ، حدیث، ادب، علم الکلام کی تمام بڑی کتب کی تعلیم حاصل کی۔ 1984ءمیں جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاو ¿ن کراچی سے دورہ حدیث کیااور سند فراغت حاصل کی۔ ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔
آپ کی شادی فروری 1979ءمیں دورانِ تعلیم ہی کردی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بیٹوں اور چار ہی بیٹیوں سے نوازا۔1984ء میں جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاو ¿ن کراچی سے دورہ حدیث مکمل کرنے کے بعد کراچی میں رہ کر ہی جامعہ محمودیہ کے صدر مدرس و ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات پیش کیں۔ خطابت کا آغاز جامع مسجد صدیق اکبرؓناگن چورنگی کراچی سے کیا۔ شروع میں حقوق اہل سنت والجماعت کے لئے ”جمعیت نوجوانانِ اہل سنت“ کے نام سے متحرک ہوئے کچھ عرصہ بعد 6 ستمبر 1985ءکو جھنگ میں بننے والی جماعت سپاہ صحابہؓسے متاثر ہو کر اپریل 1987ءمیں سپاہِ صحابہؓ سے وابستہ ہونے کا اعلان کردیا، ابتدءمیں کراچی اورپورے سندھ میں آپ نے اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوایا۔امیر عزیمت مولانا حق نواز جھنگوی کی شہادت کے بعد مولانا محمد اعظم طارق کو مرکزی ڈپٹی سیکرٹری منتخب کرلیا گیا تھا، تاہم ان کی تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز و محور کراچی ہی رہا،
10جنوری 1991ءکو سپاہِ صحابہؓ کے نائب سربراہ اور ایم این اے مولانا ایثار القاسمی کو جھنگ میں شہیدکردیا گیا، ان کی جانشینی کے لئے 20جنوری 1991ءکو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مولانا محمد اعظم طارق اور علامہ علی شیر حیدری کا نام سامنے آیا، دونوں حضرات نے اپنا اپنا ووٹ ایک دوسرے کے حق میں استعمال کیا، تاہم قرعہ انتخاب ”جبل استقامت“ کے حق میں نکل آیا۔
مولانا ایثارالقاسمی کی شہادت کے بعد کراچی سے سکونت ترک کر کے ہمیشہ کے لیے جھنگ میں قیام پذیر ہوگئے۔ یہاں مسجد حق نواز جھنگوی کا خطیب مقرر ہوئے۔ ملکی سیاست میں ان کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب انہوں نے سپاہ صحابہ کے پلیٹ فارم سے جھنگ شہر سے 4مارچ 1992ء میں قومی و صوبائی اسمبلی جھنگ کا ہونے والا الیکشن حکومتی پریشر اور سرکاری وزرءکی جھنگ میں آمد کے باوجود بڑی آسانی سے جیت کر لیا۔ ایثار القاسمی کی شہادت کی وجہ سے ہونے والے ضمنی انتخابات میں انہوں نے شیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ یوسف کو شکست دی۔ نفاذ نظام خلافت راشدہ، ناموس صحابہ? و اہلبیت? کو آئینی اور قانونی تحفظ دلوانے کے لیے قومی اسمبلی میں پہلی مو ¿ثر آواز بن کر ابھرے، قومی اسمبلی میں آپ کی پہلی تقریر اس قدر پ ±رجوش اور مو ¿ثر تھی کہ ارکانِ اسمبلی ایک ایک جملے پر ڈیسک بجارہے تھے جبکہ حکومتی وزرءانگشتِ بدنداں رہ گئے، آپ نے 3 مرتبہ رکن قومی اسمبلی اور 4 مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی کے بننے کے باوجود کرائے کے کچے مکان میں رہتے ہوئے زندگی بسر کی،عظمت اصحاب رسولﷺ کی مدح بیان کرنے کے لیے آپ نے کئی اہم ملکوں کے سفر کیے جن میں سعودیہ، قطر، افریقہ، دبئی، عراق، برطانیہ، سویڈن، افغانستان اور بحرین شامل ہیں۔
آپ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ آپ ک شب و روز مشن تحفظ ناموسِ صحابہؓکے لئے وقف تھے۔ مصائب و آلام کی وادیاں ان کے عزمِ مصمم کے سامنے گردِ سفر تھیں۔ جو لوگ مولانا محمد اعظم طارق کے ساتھ محو سفر رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ آپ کس قدر تکمیل مشن کے لئے بے تاب تھے۔ ان کا جرم بس یہی تھا کہ وہ صحابہ کرامؓ کے سچّے سپاہی تھے۔ اس جرم کی پاداش میں سالہا سال پس دیوارِ زنداں رہنا پڑا، دشمنانِ صحابہؓ نے آپ پر قاتلانہ حملوں کی انتہا کردی لیکن آپ کے موقف میں رتی برابر فرق نہ آیا۔ آپ صحابہ کرام? کے دشمنوں کو للکارتے، جھاڑتے، لتاڑتے، شیروں کی طرح گرجتے، برستے، بجلی کی طرح دشمنوں پر کڑکتے ہوئے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیﷺکی مقدس، مطہر اور پاکیزہ جماعت صحابہ کرامؓ کا دفاع کرتے رہے۔
6اکتوبر 2003ءکسی کو کیا پتا تھا کہ آج بڑا حادثہ ہونے والہ ہے مولانا اعظم طارق شہید جھنگ سے اسلام آباد کےلیے روانہ ہوئے گولڑہ موڑ پر دشمن نے آپ پر وار کر دیا 40 گولیں سینے پر کھا کر وقت کا جرنیل شہید ہو گیا
آپکی نمازہ جنازہ دو مقامات پر ادا کی گئی اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاو ¿س کے سامنے مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے نمازہ جنازہ پڑہائی جھنگ میں آپ کی نمازہ جنازہ علامہ علی شیر حیدری شہید نے پڑہائی اور آپ کو مولانا حق نواز جھنگوی شہید کے پہلو میں جامعہ محمودیہ میں دفن کر دیا گیا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.