علامہ ناصر محمود سومرو صاحب کو جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تحریر۔ محمد سکندر شاہ ،، ٹنڈوالہیار

علامہ ناصر محمود سومرو صاحب کو جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر۔ محمد سکندر شاہ ،، ٹنڈوالہیار
ایک چائنا کے باشندے سے کسی پاکستانی نے کہا کہ تم چائنا والے بہت ذہین لوگ ہو تم نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا ہے ، آج ساری دنیا چائنا والوں کی ذہانت کی قائل ہوچکی ہے ، ہم پاکستانی کُند ذہن ہیں ، اس چائینیز باشندے نے توجہ سے پاکستانی کی باتوں کو سنا اور کہا کہ اصل معاملہ ہماری ذہانت کا نہیں ہے ، پاکستانی ہم سے زیادہ ذہین ہیں ، لیکن ہمارے میں اور تمہارے میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم 10 افراد ہوں 9 کم ذہن والے ہوں اور ایک ذہین ہو تو ہم اس ایک ذہین بندے کو آگے کرتے ہیں اور باقی 9 اس کے پیچھے چلتے ہیں جبکہ پاکستان میں اگر 10 افراد ہوں 9 ذہین ہوں اور ایک کم عقل ہو تو آگے ایک کم عقل والے کو کردیا جاتا ہے پھر وہ 9 ذہین لوگ اس کی کم عقل والے کی پیروی کرتے ہیں ، نااہل لوگوں کو آگے کرنے کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ آپ لوگ بھُگت ہی رہے ہو ، میں ذاتی طور پر چائنا کے اس باشندے کے اس مشاہدے سے متفق ہوں ، واقعی پاکستانی ذہین قوم ہے ، مگر ہمارے یہاں سیاسی اور حکومتی عہدوں پر تعیناتیاں اور تقرریاں اس انداز میں ہوتی ہیں کہ اس میں موروثیت ، اقرباپروری اور سفارش کلچر کی وجہ سے میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے ، سیاست اور حکومت کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں میں بھی تقرریوں کا طریقہ کار بہت زیادہ مختلف نہیں ہے ، آپ جمعیت علماء اسلام کو ہی لے لیجئے ، سندھ میں کتنی بڑی علمی شخصیات موجود ہیں ، خانقاہیں موجود ہیں ، لیکن پوری جمعیت علماء اسلام علامہ راشد محمود سومرو صاحب اور ان کے بھائیوں کے گرد گھومتی ہے ، وہاں سے جو بات آجائے وہی دستور ہے اور وہی منشور ہے ، 2018 کے عام انتخابات میں پورے ملک میں تحریک انصاف یہودی ایجنٹ تھی ، عمران خان کی جماعت سے اتحاد کفر اور حرام تھا ، لیکن علامہ راشد محمود سومرو صاحب نے پورے دھڑلے سے تحریک انصاف سے اتحاد بھی کیا ، مشترکا جلسے بھی کئے ، مجال ہے کسی نے یہ سوال اٹھایا ہو کہ قبلہ پورے پاکستان میں تحریک انصاف سے اتحاد حرام ہے تو لاڑکانہ میں حلال کیسے ہو گیا ، خیر یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے ، میں اس پر سوال بالکل نہ اٹھاتا لیکن علامہ ناصر سومرو صاحب نے حضرت حیدریؒ کی جماعت پر حضرت حیدریؒ کے شہر خیرپور میں جاکر سوال اٹھایا ہے تو انہیں جواب دینا ذمہ داری بنتی ہے ، علامہ صاحب نے ایک مثبت بات کی طرف اشارہ کیا تو پہلے مثبت بات ہی کی طرف آتے ہیں ، علامہ صاحب فرماتے ہیں کہ سیاست اور ختم نبوتﷺ کے عنوان پر آپ لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی قیادت پر اعتماد کرو تو میں عظمت صحابہؓ کے لئے آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں ، علامہ صاحب کی پیشکش قابل غور ہے ، یہ ممکن بھی ہے ، لیکن اس کے لئے زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھنا ہوگا ، میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اس کے لئے اگر سنجیدہ کوشش ہو تو میری قیادت اس فارمولے پر یقننا عمل کر لے گی ، اب آتے ہیں علامہ صاحب کے تلخ جملوں پر سوشل میڈیا پر وائرل کلپ میں علامہ ناصر سومرو صاحب نے ایسی فلاسفی پیش کی ہے کہ سننے والوں کی ہنسی نہیں بلکہ ہانسا نکل گیا ہوگا ، قبلہ ناصر سومرو صاحب فرماتے ہیں کہ پچھلے 5 سالوں میں اگر ایک دفعہ بھی کافر کافر کا نعرہ اسٹیج سے لگا ہو تو میں ان کی جماعت میں شامل ہو جاوں گا ، قبلہ ناصر صاحب دشمنان صحابہ کے خلاف ہم نے جدوجہد کی ہے ،ہم نے قربانیاں دیں ہیں اب جب جدوجہد ہم نے کی ہے قربانیاں ہم نے دیں ہیں تو یہ حق بھی ہمارے پاس ہے کہ ہم کب کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں ، آپ دیکھ رہے ہو کہ ہم نے بغیر نعرہ لگائے دشمنان صحابہ کو پیچھے دھکیل دیا ہے ، آپ ہماری حکمت عملی پر نہیں بلکہ اس کے نتیجے پر بات کریں کہ ہم نے کامیابی حاصل کی ہے یا نہیں؟ آپ لوگوں نے تو کراچی علماء کنونشن کے فوری بعد مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی اور مجلس عمل کا اجلاس بلوایا ، آپ نے عظمت صحابہؓ مارچ کراچی کا بائیکاٹ کیا اور کہا جو جانا چاہے ذاتی حیثیت میں چلا جائے جماعتی حیثیت میں اجازت نہیں ، میرا سوال ہے کیوں ؟ پھر حیدرآباد میں علماء کنونشن کا آپ لوگوں نے بائیکاٹ کیا ، لیکن مردے گھوڑے میں آپ جان نہیں ڈال سکے تو اب آپ نے یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ نعرہ لگایا ہو تو میں ان کی جماعت جوائن کر لوں گا ، عجب فلسفہ ہے ، دوسری بات آپ نے جو یہ سوال اٹھایا کہ ختم نبوتﷺ کے لئے انہوں نے کیا کیا تو قبلہ ناصر محمود صاحب جب آپ لوگ ن لیگ کے ساتھ شریک جرم تھے اور ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں ھیرپھیر پر آپ کی پوری جماعت نے اس ھیرپھیر کے حق میں ووٹ دیا تھا ، تو وہ ہم ہی تھے جو تحریک لبیک والوں کے شانہ بشانہ اس ھیرپھیر کے خلاف سوشل میڈیا اور سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے ، اگر ہم ختم نبوتﷺ کے عنوان پر بیدار نہ ہوتے تو ن لیگ کے ساتھ مل کر آپ لوگوں نے تو حلف نامے میں تبدیلی کردی تھی ، اس لئے خوب جان لیں کہ ہم ختم نبوتﷺ کے بھی پہرہ دار ہیں ، آپ نے ایک اور سوال یہ اٹھایا ہے کہ مدارس کے لئے ہم نے کیا تو قبلہ ناصر سومرو صاحب جب ن لیگ نے مدارس کی رجسٹریشن پر پابندی لگائی ، جب قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر قدغنیں لگیں ، جب علماء اور مدارس فورتھ شیڈول میں شامل ہوئے تو اس وقت آپ لوگ ن لیگ کے اتحادی تھے اور صرف اتحادی نہیں تھے بلکہ سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین ، کشمیر کمیٹی کے چئیرمین ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین اور دو وفاقی وزراء کا تعلق آپ کی جماعت سے تھا ، آپ اقتدار میں تھے پھر مدارس پر آزمائیشیں کیوں آئیں ، یہ سوال آپ پر بنتا ہے ہم پر نہیں ، باقی ان 5 سالوں میں ہم پر کیا کیا ظلم و ستم ہوئے وہ ایک علیحدہ تاریخ ہے لیکن دینی مدارس کے ساتھ جو ظلم ہوا اس کا آپ کو جواب دینا چاہیئے ، اب آتے ہیں پیغام پاکستان کے بیانئیے پر ، اس پر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کا اعتراض کیا ہے ، پاکستان ہمارا ملک ہے ہم اس کے وفادار ہیں ، ہماری غمی خوشی اس مٹی سے جڑی ہے ، اس پر آپ سنسنی کیوں پھیلا رہے ہو ، ہماری قیادت علامہ لدھیانوی صاحب اور علامہ فاروقی صاحب نے الحمدللہ آپ کی قیادت طرح رات کے اندھیروں میں کسی سے خفیہ ملاقاتیں نہیں کی ہیں بلکہ پیغام پاکستان کے اجلاسات میں سینہ تان کر دن کی روشنی میں وہ جاتے رہے ، اپنا بیانیہ وہاں جرات کے ساتھ پیش کرتے رہے کہ توہین صحابہ کو سنگین جرم قرار دیا جائے ، اس میں معیوب بات کونسی ہے ، الحمدللہ پیغام پاکستان کا بیانیہ ہماری کامیابی ہے اس پر ہمیں فخر ہے ، باقی رہی بات کرتار پور راہداری کی کہ اس کے ذریعے ربویٰ اور قادیان کو ملایا گیا ہے تو قبلہ ریکارڈ درست کریں پہلی بات تو یہ الزام فقط ایک سیاسی الزام ہے ، لیکن اگر واقعی یہ کوئی ایسی سازش تھی جسے آپ لوگوں نے بھانپ لیا تو جس وقت 9 نومبر 2019 کو کرتار پور راہداری کا افتتاح ہو رہا تھا یہ وہی دن تھے جب آپ کا اسلام آباد میں آزادی مارچ اور دھرنا جاری تھا ، آپ لوگوں نے اگر آن دی ریکارڈ آکر کوئی بات نہیں بھی کی تھی تو کم از کم خفیہ ملاقاتوں میں یہ مطالبہ ضرور رکھنا چاہیئے تھا کہ اس راہداری کا افتتاح ہمیں قبول نہیں ہے ، لہذا اس افتتاح کو روکا جائے ورنہ ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے ، اس موقع پر تو استعفی جیسی نجانے کیا چیز لے کر آپ واپس چل دئیے ، اسلام آباد کا دھرنا ختم کردیا ، پھر کبھی A پلان کبھی B پلان اور کبھی C پلان کی باتیں کر کے کارکنان کا دل بہلایا , عمران خان حکومت کرتے رہے اور آپ کے راویوں نے کامیابی ہی کامیابی لکھی اور سکون سے گھروں کو لوٹ گئے ، قبلہ ناصر محمود صاحب آپ نے جو سوالات اٹھائے تھے میں نے ان کا جواب لکھ دیا ہے ، مزید حکم کریں گے تو مزید لکھ دوں گا ، لیکن مجھے اپنے ایک سوال کا آپ سے جواب چاہیئے آپ نہ دیں کوئی اور جمعیت کا ترجمان دے دے کہ 2013 سے 2018 تک ان 5 سالوں میں مولانا صاحب نے دین اسلام کی سربلندی یا دینی طبقے کے اجتماعی مفاد کے لئے جو 5 بڑے کام کئے ہوں ان کی تفصیل مجھے مل جائے تو میں آپ کا مشکور رہوں گا ، باقی آپ نے اپنی خیرپور کی تقریر میں یہ بات بھی فرمائی ہے کہ گستاخ صحابہ پر میں لکھ لعنت بھیجتا ہوں ، علامہ صاحب اب اس عہد کو نبھانا ہے ، اگر اب آپ کی کوئی تصویر گستاخ صحابہ کے ساتھ ہنستے ہنستے اور جھپیاں ڈالتے ہوئے وائرل ہوئی تو میں پھر آپ کو یاد دلاوں گا ، پھر آپ کے لوگوں سے تنقید برداشت بھی نہیں ہوتی وہ فورا گالم گلوچ اور کفر کے فتووں پر آجاتے ہو ، اس لئے نہایت ادب کے ساتھ آخری گذارش یہ کہ اگر حضرت حق نوازؒ اور حضرت حیدریؒ کی طرح آپ عظمت صحابہؒ کے لئے قربانی نہیں دے سکتے ہو تو اللہ کے لئے شہداء کے مشن پر کیچڑ بھی مت اچھالو ، لوگوں کو یہ تاثرمت دو کہ ہمارے شہداء نے نعرہ کسی کے کہنے سے لگایا تھا ، ہمارے شہداء نے قربانیاں دیں ہیں ، زندگی صعوبتوں اور مصائب میں ہنس ہنس کر گزاری ہے ، وہ سرکاری مراعات پر سرکاری محلوں میں نہیں رہے ہیں ، انہوں نے ریاستی جبر و تشدد برداشت کیا ہے ، مشکلات کی باتیں کرنا آسان ہے انہوں نے مشکلات اپنے وجود پر سہی ہیں ، اس لئے ہمیں اپنے شہداء سے جذباتی لگاو ہے ، وہ باکردار اور نظریاتی لوگ تھے ، اپنے شہداء پر کیچڑ اچھالنے کی آپ کو اجازت نہیں دیں گے ، آپ اپنی اصولی یا وصولی جو بھی سیاست کرو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ذکر صحابہؓ ہماری عبادت ہے ہمیں یہ عبادت کرنے دو ، کرنے دو ، کرنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.