مصری عوام السیسی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی، 3 پولیس افسر اور 4 قیدی جاں بحق

مصر میں عبدالفتح السیسی کے خلاف احتجاج زور پکڑتا جا رہا ہے۔ پہلے پہلے لوگ مختلف ٹولیوں میں احتجاج کر رہے تھے لیکن اب لوگ منظم انداز میں احتجاج کر رہے ہیں جس سے حکومت کی پریشانیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی تورا جیل میں قیدیوں نے ہنگامہ کر دیا اور جیل توڑنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں تین پولیس افسر اور چار قیدی جاں بحق ہو گئے۔
جیل حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے چاروں قیدیوں کو سزائے موت کی سزا دی گئی تھی۔
مصر کے موجودہ صدر اور سابق آرمی چیف جنرل عبدالفتح السیسی گذشتہ سال ستمبر میں دوبارہ مصر کے صدر منتخب ہو گئے جس پر عوامی احتجاج بڑھ رہا ہے۔
حال ہی میں مصر کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت فوج کے اعلیٰ افسروں کو بھی انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
مصری عوام کا کہنا ہے کہ السیسی حکومت کے بعد ان کے لئے زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ صحت عامہ کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور دوسری طرف امن و امان کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے۔
مصر کی السیسی حکومت مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو گھروں سے گرفتار کر کے جیلوں میں قید کر رہی ہے۔ اخوان المسلمین کے کئی سرکردہ رہنما بھی اس وقت جیلوں میں قید ہیں۔
حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا رہی ہے اور اس کے لئے تشدد کے تمام حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔
ان تمام حالات کے باوجود امریکہ اور یورپین یونین نے مصر میں ہونے والے عوامی احتجاج پر اپنی آنکھیں اور کان بند کئے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.