اکابر علماء و قیادت پر اعتماد رکھیں

اکابر علماء و قیادت پر اعتماد رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
تحریر ۔ محمد سکندر شاہ ،، ٹنڈوالہیار
آل پارٹیز کانفرنس میں میاں نوازشریف صاحب کی انٹری نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے ، میرے لئے تعجب خیز بات یہ ہے کہ میاں صاحب نے 2018 میں سینیٹ کے الیکشن سے پہلے بلوچستان میں اپنی حکومت گرانے کا سارا ملبہ صرف ایک ریاستی ادارے پر ڈال دیا ہے ، شاید وہ یہ بھول گئے کہ بلوچستان میں تحریک عدم اعتماد میں مولانا فضل الرحمن صاحب کی جماعت تحریک عدم اعتماد لانے میں پیش پیش تھی اور زرداری صاحب نے سینیٹ میں اپنا ڈپٹی چئیرمین لگوایا تھا ، بلوچستان میں تو تحریک انصاف کی کوئی سیٹ ہی نہ تھی جبکہ سینیٹ میں بھی گیم چینجر ووٹ تحریک انصاف کے پاس دستیاب نہ تھے ، تحریک انصاف نے تو فقط سینیٹ کے انتخاب میں انہیں سپورٹ کی تھی ، لیکن پھر بھی تحریک انصاف بوٹ پالیشیہ اور پی پی و جمعیت حریت پسند یہ اصول سمجھ نہیں آیا ، خیر آل پارٹیز میں میاں صاحب نے پیپلزپارٹی ، جمعیت اور تحریک انصاف کو چھوڑ کر فقط ان لوگوں کو ہدف کا نشانہ بنایا جو 2018 میں میاں صاحب کے خیال میں خان صاحب کو لائے ہیں ، میاں صاحب نے مزید جو گفتگو کی اس پر بھی بحث ہو سکتی ہے لیکن مجھے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ جنہوں نے میاں صاحب کی منتخب حکومت کے خلاف بلوچستان میں عدم اعتماد پیش کی ، جنہوں نے اعلانیہ کہا کہ سینیٹ میں ن لیگ کا چئیرمین ہم نے آنے نہیں دیا ان سب کو چھوڑ کر میاں صاحب ایک ادارے کے پیچھے کیوں لگے ہیں ، آل پارٹیز کے بعد میڈیا پر مزید دوخبریں بریک ہوئیں جس کے مطابق پارلیمانی لیڈرز نے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے اور اس ملاقات میں پارلیمانی لیڈر آرمی چیف سے یہی شکایت کرتے رہے کہ آپ نے ہمیں بلایا ہم تو آگئے لیکن عمران خان آج بھی نہیں آئے ، پارلیمانی لیڈرز کی ملاقات میں ن لیگ کے میاں شہباز شریف اور جمعیت کے صاحبزادہ اسعد محمود بن مولانا فضل الرحمن صاحب بھی شریک تھے ، مجھے ذاتی طور پر اس جیسی کسی ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں ہے ، لیکن جس انداز میں ن لیگ اور جمعیت والے ہر ایک کو بوٹ پالیشیہ کہہ رہے ہیں انہیں یہ ملاقات نہیں کرنی چاہییئے تھی ، تاکہ ان کی بات کا وزن بڑھتا ، خیر ایک خبر یہ بھی میڈیا پر زیرگردش ہے کہ سابق گورنر سندھ اور وفاقی وزیر اسد عمر کے بھائی محمد زبیر نے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے اور اس ملاقات کا واحد مقصد بی بی مریم اور میاں صاحب کے معاملات میں بات چیت تھی ، ملکی مین اسٹریم میڈیا پر ان معاملات ہی کی دھوم ہے لیکن ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ایک اور ملاقات کی خبر زیر گردش ہے ، علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ لیڈرز اور قائدین کے سینوں میں کچھ ایسے قومی راز ہوتے ہیں کہ وہ راز قبر تک لیڈر اور قائد کے ساتھ جاتے ہیں ، وہ زندگی میں کبھی ان باتوں کو زبان پر نہیں لاتے ، ایسے راز اکثر آف دی ریکارڈ ہونے والی ملاقاتوں کا حصہ ہوتے ہیں ، میں نے معاویہ صاحب سے 22 ستمبر کی ملاقات کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرا اس وقت میں کارکنان کو یہی پیغام ہے کہ وہ اکابرین اور قیادت پر اعتماد رکھیں ، اب یہاں کارکن بیچارہ پھنس رہا ہے کیونکہ اس کا مسئلہ ذاتی نہیں وہ ذاتی طور قیادت سے مطمئن بھی ہے اور خوش بھی ، لیکن سیاسی مولوی کے سیاسی کارکن سوشل میڈیا پر انہیں جو طعنے دے رہے ہیں ، وہ ان طعنوں سے کنفیوژ ہوتے ہیں ، اپنے ان سادہ دل کارکنان کی تسلی کے لئے 22 ستمبر 2020 کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے اتنا عرض کروں گا کہ سوشل میڈیا پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ ملاقات تاریخی ملاقات تھی ، جو لوگ تحفظ ناموس صحابہؓ کی تحریک سے وابستہ لوگوں کو تنہا کرنا چاہتے تھے الحمدللہ وہ خود تیزی کے ساتھ تنہائی کی طرف بڑھ رہے ہیں ، ملک کا ذمہ دار طبقہ اس بات کو خوب جان چکا ہے کہ پاکستان میں بدامنی اور نفرت کی بنیادی وجہ توہین صحابہ ہے ، اس پر قانون سازی کی طرف پیش قدمی جاری ہے ، یقننا ہمیں اپنے علماء پر بہت مان ہے لیکن رواں سال کرونا ، مساجد کی بندش اور اب توہین صحابہ پر ہمارے بریلوی بھائیوں نے جو مضبوط اسٹینڈ لیا ہے وہ قابل تعریف بھی ہے اور لائق تحسین بھی ، دینی معاملات میں باوجود سرکاری عہدے کے مفتی منیب الرحمن صاحب کا غیرلچکدار رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ ان شاءاللہ اب پاکستان میں توہین صحابہ کو باقاعدہ ایک جرم تسلیم کیا جائے گا ، سوشل میڈیا سے یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ 22 ستمبر کو حافظ طاہر اشرفی صاحب کے سوا سب ہی علماء کا مئوقف دو ٹوک تھا ، ویسے بھی حافظ صاحب پوری کوشش کرتے ہیں کہ دونوں بلکہ سارے لڈو ہاتھ میں رہیں ، لیکن مفتی منیب الرحمن صاحب ، مفتی تقی عثمانی صاحب ، مفتی رفیع عثمانی صاحب ، علامہ احمد لدھیانوی صاحب ، مولانا عادل خان صاحب ، مولانا ابتسام الہی ظہیر صاحب ، مولانا قاری حنیف جالندھری صاحب ، مولانا معاویہ اعظم صاحب ، مولانا سید مظفر حسین شاہ صاحب ، پروفیسر ساجد میر صاحب ، علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب ، علامہ ضیاءاللہ شاہ بخاری صاحب اور پیر نقیب الرحمن صاحب سمیت تمام ہی علماء ہمارے لئے قابل قدر بھی ہیں اور قابل اعتماد بھی ، لہذا ان اکابر علماء پر یقین رکھیں ، میں بہت دن سے عرض کر رہا ہوں کہ تحریک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکی ہے ، اس فیصلہ کن موڑ میں بداعتمادی کا زہر ساری محنتوں اور قربانیوں پر پانی پھیر دے گا ، بڑے بڑے مسائل کا حل ٹیبل پر بیٹھ کر نکلتا ہے ، اب گلی کوچوں اور سوشل میڈیا سے نکل کر یہ تحریک ٹیبل پر آچکی ہے ، ایک ایک لمحے کی کمنٹری سوشل میڈیا پر کرنا ممکن نہیں ہے ، نہ ہر سوال کا جواب سوشل میڈیا پر بنتا ہے اور نہ مانگنا چاہیئے ، باقی سیاسی مولوی اور اس کے کارکن آپ سے کبھی بھی راضی نہیں ہوں گے ، وہ کوشش کریں گے کہ آپ کو جذبات میں لاکر غلط راستے پر ڈال دیں ، سو غلط راستے پر نہیں چلنا ہے ، مقدس شخصیات کی عزت و ناموس کا تحفظ اور پاکستان کی خوشحالی یہ ہمارا بنیادی ایجنڈا ہے اس کی تکمیل کے لئے اپنے اکابر علماء و قیادت پر اعتماد رکھیں ، ان شاءاللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، چومے گی ، چومے گی

Facebook Comments

POST A COMMENT.