جائزمطالبہ ماننے میں کیارُکاوٹ ہے؟مولانامحمدجہان_یعقوب

جائزمطالبہ ماننے میں کیارُکاوٹ ہے؟

مولانامحمدجہان_یعقوب

وہ بڑےمطمئن تھے کہ الحمدللّٰہ!تحفّظِ نامُوسِ صحابہ کے حوالے سے بھی تمام اہلِ سنت مکاتبِ فکراِسی طرح ایک پیج پرآچکے ہیں جس طرح تحفّظِ نامُوسِ رسالت وختمِ نبوّت کے حوالے سے یک دل ویک زبان ہیں۔اُن کاکہناتھا:ہمیں نام ونمودسے نہ پہلے کوئی دل چسپی تھی اورنہ اب ہے۔ہم توصرف ملکِ عزیزمیں عظمتِ نامُوسِ صحابہ کاقانونی وآئینی تحفّظ چاہتے ہیں اوراِس کی بڑی سے بڑی قیمت چُکانے کے لیے ماضی کی طرح اب بھی تیارہیں۔ہم نے اِس کی خاطراپنے صفِ اوّل کے راہ نماؤں کی قربانی دی ہے۔ہزاروںکی تعدادمیں کارکنوں کی شہادتیں پیش کی ہیں۔اب ہم اِس سے بھی بڑی قیمت چُکانے کے لیے بصمیمِ قلب حاضرہیں۔ہم نے ہدایت کردی ہے کہ خطبااپنالہجہ بدلیں۔کارکن جھنڈے لے کرمشتعکہ پروگراموں میں شریک نہ ہوں۔ہم تواپنانعرہ تک چھوڑچُکے ہیں۔۔۔صرف اِس لیے کہ اگریہ سب کرکے نامُوسِ صحابہ کوآئینی وقانونی تحفّظ مل جاتاہے تویہ سوداسستانہیں۔
میں آہنی عزم اورفولادی استقامت کے حامل منحنی جسامت مگرپہاڑجیسے حوصلےکے مالک اِس شخص کے سامنے بیٹھاسوچ رہاتھا:واقعی!کاروانِ عزیمت کی قیادت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ ایسے ہی رجالِ کارکااِنتخاب کرتاہے جوسیکڑوں جنازے اپنے ناتواں کاندھوں پراُٹھاکراورسالہاسال پُرصعوبت قیدوبندکی آزمائشوں سے گزرکربھی کوئی شکوہ لب پرلانے کاروادارنہیں۔اس کے خمیرمیں ایک طرف صحابہ سے وفاہے تودوسری طرف اکابرعلماومشائخ کی بے لوث محبّت کے جذبات سے بھی اِس کادِل منوّرہے۔خودکومِٹانے کے دعوے کرنے والے توبہت ہیں لیکن جس نے صحابہ کی محبّت میں خُودکویوں مِٹاڈالاہوکہ 35سال جس کازکے لیے قربانیوں کی داستانیں رقم کیں،آج اُس کازکی مُشترکہ جدّوجُہدکے لیے خودکوایک ادنیٰ سپاہی کے طورپرپیش کررہاہے،بلکہ اکابرکی جُوتیاں اُٹھانےکواپنے لیےسعادت گردانتاہے۔
مولاناغازی اورنگ زیب فاروقی مُلک کے طول وعرض کے سفرسے لوٹےتھے مگربجائے گھرجانے اورآرام کرنے کے،اُسی لگن کے ساتھ مصروفِ کارنظرآئے۔ہماری موجودگی میں کئی ملاقاتیں بھُگتائیں،جماعتی امُورنمٹائے۔۔۔۔مگرنہ لب پرکوئی شکوہ کیااورنہ ہی چہرے سے تھکن ظاہرہونے دی۔
اِسلام آبادمیں ایک شیعہ ذاکرآصف رضاعلوی کے ذریعے افضل البشربعدالانبیاءسیدناصدیقِ اکبررضی اللّٰہ عنہ کی شان اقدس میں گستاخی کروائی گئی۔شیعہ علمانے ببانگِ دُھل اِس ازسے پردہ ہٹایاہےکہ اِس بدزبان شخص کے اجتماعاتِ محرّم میں بیانات پرپابندی لگائی گئی تھی مگرحکُومت میں موجُودایک لابی نے ملک میں فرقہ واریت کوہوادینے کے لیے اِس کاپروگرام کروایااورجب کام مکمّل ہواتواِسے ویزاتھماکرولایت فرارکروادیا۔اِسی تناظرمیں ہم نے “گستاخی کروائی گئی”کاجملہ لکھاہے۔پھرکراچی میں عاشوراء کے مرکزی جلُوس میں زیارتِ عاشواراء کی آڑمیں کاتبِ وحی امیرالمؤمنین حضرت سیدنامعاویہ رضی اللّٰہ عنہ اوراُن کے والدسیدناابوسُفیان رضی اللّٰہ عنہ پرسرِعام لعنت کی گئی جسے ایک نجی چینل نے براہِ راست دِکھایا۔یوں تواہلِ تشیّع نے رِدائے تقیّہ اِس سے پہلے اُنہی دِنوں میں اُتاردی تھی جب پنجاب اسمبلی میں تحفّظِ اسلام بل پیش کیاگیاتھا۔۔۔۔اورپریس کانفرنس کے ذریعے کئی اصحابِ رسول کوصحابی ماننے اورصحابی کاتقدّس فراہم کرنے سے انکارکردیاتھا،لیکن اِن دوواقعات نے جلتی پرتیل کاکام کیااورملک بھرکے اہلِ سنّت مکاتبِ فکرکے راہ نماؤں نے اِس کاسخت نوٹس لیا۔کراچی سمیت ملک کے طول وعرض میں تحفّظِ نامُوسِ صحابہ واہلِ بیت کے نام سے مارچ اورکانفرنسوں کاانعقادکیاگیا،جس کاسلسلہ تاحال جاری ہے۔اِن مارچوں اورکانفرنسُوں میں لاکھوں افرادکی شرکت اِس بات کاواضح اِظہارہے کہ کوئی مسلمان صحابہ کی شان میں ہونے والی کسی قسم کی گُستاخی کو،چاہے وہ کسی بھی پیرائے میں ہواوراُسے جوبھی نام دیاجائے،برداشت نہیں کرسکتا۔اِن مارچوں اورکانفرنسُوں کاایک ہی مُطالبہ ہے کہ:توہینِ رسالت کی طرح توہینِ صحابہ کوبھی قانوناًجُرم قراردےکرجن جلوسُوں میں توہین کااِرتکاب کیاگیااُن کےپرمٹ منسُوخ کردیے جائیں اوراگریہ توہین اہلِ تشیّع کی مسلکی عبادت ہے تواِسے عبادت گاہوں تک محدودکیاجائے۔اہلِ سنّت کے نزدیک صحابہ کااحترام ایمان کالازمی تقاضاہے،جس کی خلاف ورزی اشتعال انگیزی کاباعث ہے،اِس لیے ایسے ذاکروں پرپابندی عائدکی جائے۔
توہین کے پے درپے واقعات کی وجہ سے ملک انتہائی نازُک صورتِ حال کاشکارہے،ایسے میں حکمرانوں اورسیاست دانُوں کااِس معاملے پرتغافلِ عارِفانہ سمجھ سے بالاترہے۔وزیرِاعظم کے کچھ انتہائی قریبی لوگوں پربھی انگلیاں اُٹھ رہی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے سینیٹرزاے رحمٰن ملک اورشیری رحمٰن کے بیانات سےبھی یہ تاثُرزورپکڑرہاہے کہ فرقہ پرست عناصرکوصرف ایران اورشام کی ہی نہیں صفِ اوّل کی لبرل جماعتُوں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
اِدارے اِس تمام صُورتِ حال پریقیناًنظررکھے ہوئے ہیں اوروہ ملک کومذہبی انارکی اورمسلکی منافرت کی آگ میں دھکیلنے والےعناصرسے واقف وآگاہ ہیں۔اُن کی نظرسرحدپرایرانی مداخلت کے بڑھتے ہوئےسلسلے پربھی ہے اوروہ اُن عناصرکوبھی بخُوبی جانتے ہیں جوایران کی شہہ پرملکی امن کوتہہ وبالاکرناچاہتے ہیں۔ان دِنوں میں یہ بات بھی کھُل کرسامنے آگئی ہے کہ کون ریاست اورملک کاسچّاوفادارہےاورکِس نے غیروں کومداخلت کے لیے پُکاراہے۔ہمارے حکمرانوں اورسیاست دانُوں کواب”شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری”کی پالیسی ترک کرنااوردیوارپرکندہ حقائق کااِدراک کرناہوگا۔یہ ملک کی 95%آبادی کی امن پسندی اوراُن کی قیادت کی دُوراندیشی ہے کہ اب بھی وہ عدلیہ اورمقنّنہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کیااِسی ملک میں اہلِ تشیّع کمیونٹی نے اپنے ایران سے آئے لوگوں کونکالنے کےلیے جیلوں اورتھانُوں پرحملہ نہیں کیاتھا۔کیاشہنشاہ نقوی نے حیدرآبادمیں بیان پرلگنے والی پابندی کے نوٹی فکیشن سے اپنانام نکالنے اورمتعلّقہ ایس ایچ اوکی معطّلی کی ڈیڈلائن نہیں دی تھی کہ جب تک یہ دونُوں کام نہیں ہوں گے،اپنی جگہ سےنہیں ہٹوں گا۔۔۔۔اورپھرانتظامیہ کواِس کے سامنے گھُٹنے ٹیکنے پڑگئے تھے۔کیاناصرعبّاس نے کراچی مرکزی جلُوس کےچھے لاکھ شرکاکے ساتھ گرفتاری دینے کی دھمکی نہیں دی تھی۔کیااب اہلِ تشیّع کی طرف سے رؤیتِ ہلال کمیٹی کابائیکاٹ کااعلان صرف اِس وجہ سے نہیں کیاگیاکہ اُس کی چیئرمین شپ مفتی منیب الرحمٰن کے پاس ہے۔ایک طرف یہ انتہاپسندانہ رویّے ہیں اوردُوسری طرف اہلِ سنّت اکثریت کی امن پسندی،باوجُودیکہ کراچی والے گستاخ کی گرفتاری عمل میں آسکی ہے اورنہ ہی اسلام آبادوالے گستاخ کی،بلکہ کراچی والی ایف آئی آربھی عدالتِ عالیہ سے کالعدم قراردی جاچکی ہے اوراسلام آبادمیں تحفّظِ نامُوسِ صحابہ کانفرنس سے خطاب کرنے والے ایک راہ نمامولانامسعودالرحمٰن عثمانی کے خلاف ایف آئی آربھی درج کی جاچُکی ہے۔کیااِس سب کے باوجُوداہلِ سنّت اکثریت کااِدارُوں پراعتماداورپُرامن طریقے سے آئین کی پاس داری کے ساتھرِیاست کواُس کی ذمے داریُوں کی طرف متوجّہ کرنا۔۔۔۔اِس بات کامتقاضی نہیں کہ اُن کے صبرکامزیداِمتحان لینے کے بجائےاُن کاجائزمطالبہ،جسے آئینِ پاکستان کادستُوری تحفّظ بھی حاصل ہے،تسلیم کرتے ہوئےصحابہ کرام،اہلِ بیت عظام رضی اللّٰہ عنھم وعنھنّ کی نامُوس کے تحفّظ کوقانون کاحصہ بنادِیاجائے

Facebook Comments

POST A COMMENT.