تاريخ دارالعلوم كراچی کا روشن زاویہ

بقلم ✍️: نعيم الله
18/9/2020
پاکستان کی آزادی کے بعد حضرت مولانا نور احمد اركانى رحمه الله نے اپنے سسر حضرت مفتى شفيع رحمه الله كى طرح دیوبند سے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور کورنگی کراچی میں واقع دارالعلوم کی یہ زمین اپنے نام پر الاٹ کی یہ وہ وقت تھا جب اس کو ہر قسم کی سہولیات سے محروم بہت دور افتادہ علاقہ سمجھا جاتا تھا آپ نے اپنے سسر حضرت مولانا مفتى شفيع رحمة الله عليه كو دعوت دى كہ یہاں تشریف لائیں اور تعلیمی ادارے کی بنیا ڈالیں حضرت مفتى اعظم رح نے کہا ممكن نہیں ہے یہ بہت دور افتادہ علاقہ ہے سہولیات اور سڑکوں کا فقدان ہے ليكن مولانا نوراحمد رح كى دوريين آنكهیں کچھ اور دیکھ رہی تھیں آ پ نے ادارے کی بنیاد ڈال دی اور ادارے کا کا پہلا ناظم مقرر هوا اور اپنے سسر کو بمشکل راضى كيا اور مولانا تقى صاحب مدظلہ کو ابتدائی قاعدے بھی حضرت ناظم صاحب نے پڑھائے ،
حضرت ناظم صاحب مرحوم بہت دوربین تھے اور ان كے اندر بے پناہ انتظامى صلاحيت تهى اور بيك وقت كئى كئى کئی اسٹراٹیجی پلان بناتے اور اس کو انجام تک پہنچاتے تھے اور بندۂ ناچیز کو بہت سارے امور میں ان کی خدمت کا شرف حاصل هوا ،
حضرت مفتى اعظم مفتی شفیع اور ناظم نوراحمد صاحب رحمهما الله كى دوران تأسیس دارالعلوم كراچی مشاورت ملاحظه فرمائيں :
*مفتى اعظم *: زمین ضرورت سے بہت زیادہ ہے
ناطم نوراحمد : جو میرا تعلیمی پلان ہے اس کیلئے یہ زمین آئندہ جاکر ناکافی ہوجائے گی
مفتى اعظم : مدرسے کا نام کیا ہوگا؟
ناظم صاحب : دارالعلوم ديوبند كى نسبت سے دارالعلوم كراچی ہوگا
مفتى اعظم : نام بہت بڑا ہے کوئی اور نام دیکھو
ناظم صاحب : اداره شايان هوگا اور جو تعليمى پلان ہے اس کے مطابق اسم بامسمی ہوگا اور نام دارالعلوم ہی ہوگا۔
حضرت مولانا مفتى ولى حسن ٹونکی رحمه الله نے 1982 ء ميں ہمیں دوران درس بخارى ايك موقع پر فرمایا کہ مولانا نور احمد نے دو ہجرت کی ایک ہجرت ان کی انگريز كے دور حكومت ميں تقسیمِ ہند سے قبل اپنے آبائی علاقے بوتھیدنگ ارکان برما سے دیوبند کی طرف تھی دوسرى ہجرت ان کی آزادی کے بعد دیوبند سے کراچی کی طرف تھی جہاں انہوں نے کورنگی میں زمین لی اور دارالعلوم كراچی کی بنیاد ڈالی دوران درس مفتى ولى حسن رح نے ناظم صاحب كے صاحبزادے مولانا نعيم اشرف كو مخاطب كركے کہا کہ بانئ دارالعلوم كراچی آپ کے والد محترم ہیں.
دار العلوم کراچی کی زمین چونکہ آپ کے نام پر تھی بعد میں حضرت ناظم صاحب نے اس کو دارالعلوم کیلئے وقف كرديا اور تعليمى ادارے کیلئے وقف كى زمين پر قبرستان كى اجازت نہیں تھی اس مسئلے کو بھی ناظم صاحب نے حل كرديا
جارى هے

Facebook Comments

POST A COMMENT.