فاتح قبلہ اول داماعلیؓ امیرالمو منین، سیدناعمرفاروقؓ صدر اہلسنّت علامہ اورنگزیب فاروقی

فاتح قبلہ اول داماعلیؓ امیرالمو منین، سیدناعمرفاروقؓ صدر اہلسنّت علامہ اورنگزیب فاروقی تاریخ اسلام کی چارعظیم شہادتیں اسلامی تاریخ میں قرون اولیٰ میں پیش آمد چار شہادتیں ایسی ہیں جنہوں نے اسلامی معاشرے پر بہت گہرے اور دوررس اثرات چھوڑے ہیں جن میں پہلی شہادت حضور اکرمﷺ کے خسر اور حضرات حسنین کریمینؓ کے بہنوئی خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطابؓ کی شہادت ہے۔دوسری شہادت حضوراکرمﷺ کے دوہرے داماد حضرت علیؓ کے ہم زُلف اورحضرات حسنین کریمین ؓکے خالو خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان ؓ کی شہادت ہے۔ تیسری شہادت حضور اکرمﷺ کے چچا زاد بھائی اور حضرات حسنین کریمینؓ کے والد محترم ،حضرت عمر فاروقؓ کے خسر اور حضرت عثمان غنیؓ کے ہم زُلف، خلیفہ رابع حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی شہادت ہے اور چوتھی شہادت حضور اکرمﷺ کے نواسہ حضرت عمرؓ کے برادر نسبتی اور حضرت علیؓ کے صاحبزادے حضرت حسینؓ کی شہادت ہے۔ تاریخ کے گہرے مطالعے اور واعات و شواہد میں غور و خوض کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتاہے کہ چاروں شہادتیں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت رونما ہوئیں اور دنیائے کفر کے متحدہ کولیشن کی آشیرباد کے ساتھ یہ سب کچھ ہوااور چاروں شہادتوں کے پیچھے ایک ہی مجرمانہ ذہنیت کارفرما تھی اول الذکر تینوں شہادتیں مسلمانوں کو متحدہ قیادت سے محروم کرکے افتراق و انتشار کا شکار بنانے کے لئے تھیں جبکہ چوتھی شہادت میں اسلام میں رخنہ اندازی اور اسلامی تشخص کو مٹانے کا عنصر بھی بدرجہ اتم موجود تھا حضرت حسینؓ نواسہ رسول ﷺ ± ہونے کے حوالے سے بلا امتیاز پورے عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرجع تھے۔ ان کی خاک و خون میں لتھڑی ہوئی مبارک لاش مسلمانوں کے جذبات میں تلاطم برپا کرنے کے لئے کافی تھی۔صحابہ رضی اللّٰہ عنہم۔ایما ن کی کسوٹی پراللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کو معیار اور کسوٹی قرار دیا ، راہ ہدایت پر وہی شخص ہے جس کا ایمان و عقیدہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و عقیدہ کے موافق رہے۔ حضور اکرم ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہدایت کے درخشاں ستارے قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:میرے صحابہ( رضی اللہ عنہم) ہدایت کے درخشاں ستارے ہیں تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پالوگے۔(مشکوٰة المصابیح ص554،زجاجة المصابیح جلد5صفحہ334)ترمذی ابواب المناقب میں حدیث مبارک ہے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناﺅ پس جس کسی نے ان سے محبت کی تو بالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بنا پر ان سے بغض رکھا ہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہنچائی یقینا اس نے مجھ کو اذیت دی اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقینا اس نے اللہ کو اذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے۔ (جامع ترمذی شریف جلد2صفحہ225)صحیح بخاری شریف میں حدیث مبارک ہے حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے اگر کوئی اُحد کے پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے تب بھی وہ صحابہ ؓ کے” پاﺅسیر جو“خیرات کرنے کی برابری نہیں کرسکتا۔ (صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابة حدیچ نمبر3673)حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا جو شخص میرے اہل بیتؓ اور انصار ؓ اور عرب کا حق نہیں پہچانتا تو اس میں تین چیزوں میں سے ایک پائی جاتی ہے یا تو وہ منافق ہے یا وہ حرامی ہے یا وہ ایسا آدمی ہے جس کی ماں بغیر طہر کے اس سے حاملہ ہوئی ہے۔ (امام دیلمی)اسلامی تقویم کا آغاز اور اسلام میں محرم کی اہمیتاسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتاہے عیسوی شمسی سال کے برعکس اسلامی قمری سال کا آغاز ولادت النبیﷺ کے بجائے ہجرت النبیﷺ سے کرنے میں زبردست حکمت و مصلحت ہے جب امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے سامنے اسلامی تقویم کا معاملہ آیا اور اسلامی سال شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپؓ نے ہجرت کو معیار بنایا کیونکہ اس سے اسلامی عظمت کا آغاز، اسلامی اتحاد کی ابتدا اور اسلامی اخوت و مساوات کی شروعات ہوتی ہے۔ماہ محرم کی اہمیت و فضیلتماہ محرم الحرام کی تاریخی اہمیت مسلم ہے احادیث و روایات اور آثار سے اس کے فضائل و برکات ثابت ہیں روایات کی روشنی میں اسی محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کی تخلیق فرمائی۔یوم عاشوراہی کو جنت پیدافرمائی، یوم عاشورا ہیکو سفینہ نوحؑ جو دی پہاڑ پر ٹھہرا، یوم عاشوراک وحضرت موسیٰؑ اور ان کی قوم نے فرعون سے نجات حاصل کی اور اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کیا۔یوم عاشوراکا روزہحضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد بہترین روزہ محرم الحرام کا روزہ ہے اور فرض نماز کے بعد بہترین نماز تہجد کی نماز ہے۔(مسلم شریف ، رایض الصالحین)داماد علی ؓامیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہمحرم کی پہلی تاریخ کو امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کا عظیم سانحہ پیش آیا، وہ عمرؓ جن کی شہادت یقیناواقعہ کربلا سے زیادہ دردناک ہے اس لئے کہ اسلام کو رفعت و عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے والے عمرفاروقؓ تھے جن کو برادر رسول اور مطلوب اسلام ہونے کا شرف حاصل ہے جن کے سایہ سے بھی شیطان بھاگتاہے اور جن کی ذات میں خاتم النبین سیدالمرسلین ﷺ کو صفات نبوت نظرآتی ہیں۔تعارف داماد علیؓ و فاطمہؓخلیفہ دوم داماد علیؓ و فاطمہ ؓ حصرت امیرالمومنین حجرت عمر فاروق اعظمؓ کی کنیت”ابو حفص“اور لقب”فاروق اعظم“ ہے آپؓ اشراف قریش میں اپنی ذاتی و خاندانی وجاہت کے لحاظ سے بہت ہی ممتاز ہیں آٹھویں پشت میں آپؓ کا خاندانی شجرہ رسول اللہ ﷺ کے شجرہ نسب سے ملتاہے۔ آپؓ واقعہ فیل کے تیرہ برس بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور اعلان نبوت کے چھٹے سال ستائیس برس کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے جبکہ آپؓ سے پہلے کل انتالیس آدمی اسلام قبول کرچکے تھے آپؓ کے مسلمان ہوجانے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اور ان کو ایک بہت بڑا سہارا مل گیا یہاں تک کہ حضوررحمتﷺ نے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ خانہ کعبہ کی مسجد میں اعلانیہ نماز ادا فرمائی۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ”جب حضرت عمر فاروقؓ اسلام لائے تو حضرت جبرائیل حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:یا رسول اللہﷺ! آسمان والے بھی عمر کے اسلام لانے پر خوش ہوئے ہیں۔( ابن ماجہ)فضائل و موافقات فاتح قبلہ اولایک موقع پر رسالت پناہﷺ نے ارشاف فرمایا :لوکان بعدی نبی لکان عمرمیرے بعد کوئی نبی نہیں اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو یقیناعمر ہی نبی ہوتا“(مشکوٰة مناقب عمر)ایک حدیث میں فرمایا: بے شک میں نگاہ نبوت سے دیکھ رہاہوں کہ جن و انس کے شیطان دونوں میرے عمرکے خوف سے بھاگتے ہیں۔(مشکوٰة شریف صفحہ558)ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدﷺ نے ارشادفرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زباں اور قلب پر حق کو جاری فرمادیا“۔(بحوالہ مشکوٰة شریف صفحہ557)معلوم ہواکہ سیدنا حضرت عمرفاروقؓ ہمیشہ حق کہنے والے ہیں آپؓ کی زبان اور قلب پر کبھی باطل جاری نہیں ہوا سیدنا عمرفاروقؓ کے خوف اور دبدبے سے شیطان اور ان کے آلہ کار بھاگتے ہیں۔سیدنا حضرت عمرفاروقؓ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ قرآن مجید کی بہت سے آیتیں آپؓ کی خواہش کے مطابق نازل ہوئیں ۔سیدنا حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کی آراءقرآن مجید میں موجود ہیں ۔ تاریخ خلفاءمیں ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کسی معاملہ میں کوئی مشورہ دیتے تو قرآن مجید کی آیتیں آپؓ کے مشورے کے مطابق نازل ہوتیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کی عنداللہ مقبولیت کا یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقریبا43مواقع پر حضرت عمرفاروقؓ کی عین خواہش کے مطابق آیت قرآن نازل فرمائی ہیں جن کو موافقات عمر ؓ کہاجاتاہے ایک مرتبہ حضرت عمر فارقؓ نے حضوراکرمﷺ سے عرض کیا یارسول اللہﷺ ± آپ کی خدمت میں ہر طرح کے لوگ آتے جاتے ہیں اور اس وقت آپ کی خدمت میں آپ کی ازواج بھی ہوتی ہیں بہتر یہ ہے کہ آپ ان کو پردہ کرنے کا حکم دیں چنانچہ حضرت عمرفاروقؓ کے اس طرح عرض کرنے پر ازواج مطہرات کے پردے کے بارے میں قرآن مجید کی آیت نازل ہوئی۔ترجمہ:اور جب تم امہات المومنین سے استعمال کرنے کی کوئی چیز مانگوتو پردے کے باہر سے مانگو۔ایک مرتبہ ایک یہودی حضرت عمر فاروقؓ کے پاس آکر کہنے لگا کہ تمہارے نبی جس جبرائیل فرشتے کا تذکرہ کرتے ہیں وہ ہماراسخت د شمن ہے۔حضرت عمر فاروقؓ نے اس کو جواب دیا :جوکوئی دشمن ہو اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں ار جبرائیل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔ جن الفاظ کے ساتھ سیدنا حضرت عمرفاروقؓ نے یہودی کو جواب دیا بالکل انہی الفاظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آیت کریمہ نازل فرمائی۔(پ1ع12)داماد علی ؓ کی اعلانیہ ہجرتحضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ جس کسی نے ہجرت کی چھپ کر کی مگر حضرت عمرؓ مسلح ہوکر خانہ کعبہ میں آئے اور کفار کے سرداروں کو للکارا اور فرمایا کہ جو اپنے بچوں کو یتیم کرناچاہتاہے وہ مجھے روک لے۔ حضرت عمرؓ کی زبان سے نکلنے والے الفاظوں سے کفار مکہ پر لرزہ طاری ہوگیا اور کوئی مدمقابل نہ آیا۔ ہجرت کے بعد آپ ؓ نے جان و مال سے اسلام کی خوب خدمت کی ۔آپؓ نے اپنی تمام زندگی اسلام کی خدمت کرنے میں گزار دی آپؓ حضور اکرم ﷺ کے وفادار صحابی ہیں آپ ؓ نے تمام جنگوں میں مجاہدانہ کردار ادا کیا اور اسلام کے فروغ اور اس کی تحریکات میں حضوراکرمؓ کے رفیق رہے۔خلافت و اولیات فاروق اعظم ؓامیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے بعد آپؓ کو خلیفہ منتخب فرمایا اور10سال6ماہ 4دن آپؓ نے تخت خلافت پر رونق افروز ہوکر جانشین رسول ﷺ کی تمام ذمہ داریوں کو باحسن و جوہ انجام دیا۔آپؓ نے امور حکومت و سلطنت میں ایسی درجنوں اصلاحات فرمائیں جو پہلے نہیں تھیں ان کو ”اولیات فاروقیؓ“ کہاجاتاہے جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:1….تاریخ و سال ہجری جاری کیا۔2….بیت المال قائم کیا۔3….ماہِ رمضان میں تراویح کی نماز باجماعت جاری فرمائی۔4….لوگوں کے حالت معلوم کرنے کے لئے راتوں کو گشت کیا۔5….ہجو، مذمت کرنے والوں پر حد جاری فرمائی۔6….شراب پینے والے پر اسی کوڑے لگوائے ۔7….نکاح موقت کی حرمت کو عام کیا اور ناجائز قرار دیا۔8….جن لونڈیوں سے اولاد ہو ان کی خرید و فروخت ممنوع قراردی۔9….نماز جنازہ میں چار تکبیر پڑھنے کا حکم دیا۔10….دفاتر قائم کئے اور وزارتیں معین و مقرر کی۔11….سب سے زیادہ فتوحات حاصل کیں۔12….مصر سے بحرِ ایلہ کے راستے مدینہ طیبہ میں غلہ پہنچانے کا بندوبست کیا۔13….صدقہ کا مال اسلامی امور میں خرچ کرنے سے روکا۔ 14 ….ترکہ اور ورثے کے مقررہ حصوں کی تقسیم کا آغاز فرمایا۔15….گھوڑوں پر زکوٰة وصول کی۔16….دُرہ ایجاد کیا۔17….شہروں میں قاضی مقررکیے۔18….کوفہ، بصرہ، جزیرہ شام ، مصر اور موصل شہر آباد کیے۔19….مساجد میں رات کو روشنی کا بندوبست کیا۔20مسافر خانے قائم کیے۔21….اذان فجر میں”الصلوة خیر من النوم“کا اضافہ کیا۔ شہادت امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ26ذی الحجہ 32ہجری بروز چہارشنبہ نماز فجر میں ابولو ¿لو فیروز مجوسی(ایرانی) کافرنے آپؓ کے شکم میں خنجر ماراور آپؓ یہ زخم کھاکر تیسرے دن یکم محرم الحرام کو شرف شہادت سے سرفراز ہوگئے۔ بوقت شہادت آپؓ کی عمر شریف 63برس کی تھی حضرت سہیب رومی ؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور روضہ مبارکہ کے اندر حضور اکرم کے ہمراہ محو استراحت حضرت صدیق اکبرؓ کے پہلو ئے انورمیں مدفون ہوئے۔ (ازالة الخفاءعن خلافة الخلفائ)

Facebook Comments

POST A COMMENT.