مظلومِ مدینہ سیدنا عثمان بن عفّان رضی ﷲ عنہ

مظلومِ مدینہ،جامع القرآن،پیکر حیائ،کاتب وحی ،دہرئے دامادرسول،خلیفہ سوم ،امیرالمﺅمنین حضرت عثمان بن عفّان رضی ا ﷲ عنہ اسلام کی وہ عظیم ہستی ہے ،کہ جنہوں نے اشاعت دین اسلام کے لئے اور فتنوں کی سر خوبی کے لئے اپنا مقدّس لہو بارگاہ الہی میں پیش کیا۔
آپ ؓکا اسم مبارک ”عثمان“اور لقب”ذوالنورین“ہے، آپ ؓکا نسب پانچویں پشت میںرسول اﷲﷺ سے جا ملتا ہے۔آپ ؓکی پیدائش واقعہ فیل کے چھ برس بعد ہوئی۔آپؓ کے والدمحترم کا نام عفان اوروالدہ محترمہ کا اروی ہے، حضرت اروی حضورﷺ کی پھوپھی امّ حکیم بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں۔یہ امّ حکیم وہی ہیں، جورسول اﷲﷺکے والد حضرت عبداﷲکے ساتھ توام پیدا ہوئی تھی، ©غرض یہ ہیکہ حضرت عثمانؓ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے رسول اﷲﷺ کے ساتھ قریبی قرابت رکھتے تھے۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی رہنمائی سے مشرف با اسلام ہوئے©،قبل ازسلام بھی قریش میںان کی بڑی عزّت تھی ،آپ بڑے صاحب حیاءاور بہترین سخی کے مالک تھے اور بعد سلام توآپ کی حیاءوسخاوت بے مثال تھی، گھر کے اندر دروازہ بند کرکے نہانے کے لئے کپڑے اتارتے تھے تو بھی کھڑے نہ ہورتے تھے۔حضورﷺنے ان کی حیاءکے متعلّق ارشاد فرمایاکہ کیا میں ایسے شخص سے حیاءنہ کروکہ جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیاءکرتے ہیں۔
حضرت عثمانؓ کا قدمتوسّط اور رنگ سرخی مائل تھا،آپ ؓ کے چہرے مبارک پرچیچک کے چند نشانات تھے، سینہ کشادہ تھا، داڑھی گنی اور سرپربال رکھتے تھے، اخیرعمرمیں زردخضاب بالوں پرلگاتے تھے ،اور دانتوں کو سونے کی تار سے بندھوایا تھا ۔آپؓ کے اسلام لانے کا علم جب قریش کو ہوا تو بڑی ایذائیں دی، ایک روز آپ کے چچا حکم بن عاص نے آپ کو رسی سے باندھا اور کہا کہ تم نے اپنے باپ دادا کا دین ترک کرکے ایک نیا دین اختیار کیا ہے، اﷲکی قسم تم کو نہ کھولو گا یہاں تک کہ تم اس نئے دین کو ترک کردو،حضرت عثمانؓ نے جواب دیاکہ اﷲکی قسم دین اسلام کو کبھی ترک نہ کرونگا ،آخرظالم اپنے ظلم سے باز آگئے اور آپکو رہائی ملی۔مسلمان ہوتے ہی نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت رقیّہ کاعقد آپ ؓ سے فرمادیا لیکن جب کفار مکہ نے مسلمانوں کی ایذار سانی پر کمر باندھ لی، توآپؓ بحکم رسول مع حضرت رقیّہ ؓ کے ہجرت فرماکر ملک حبشہ چلے گئے۔
رسول اﷲﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے فرمایا!عثمان پہلے شخص ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم ولوط علیہما السلام کے بعد مع اپنے اہل بیت کے ہجرت کی ،غزوہ بدر کے موقع پرحضرت رقیّہ ؓ کو مرض نے آگہراجس کے سبب نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو بدر میں شرکت سے منع فرمایا اور حضرت رقیّہ ؓ کے ساتھ رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا اﷲآپ کو بدر کے شریکین کا ثواب عطا فرمائگا ،اورغزوہ بدر کی فتح پرحضورﷺ نے مال غنیمت میں سے آپ ؓ کو بھی حصہ دیا،جس دن بدر فتح ہوااسی دن حضرت رقیّہ ؓ انتقال فرماگئی،ان کی وفات کے بعد رسول خداﷺ نے فرمایا!کہ اﷲ کا حکم ہے کہ میں اسکی بہن امّ کلثوم کا نکاح عثمان سے کردو،پھر جب امّ کلثومؓ کی وفات ہوئی ،تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا!!اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسکا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کردیتا،ایک روایت میں آتا ہے کہ حضورﷺنے فرمایا !اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں یکے بعد دیگر ہر ایک کا نکاح عثمان کے ساتھ کردیتا،اس طرح حضرت عثمانؓ حضورﷺکے دہرے داماد بنے اور آپ ؓ کو ذوالنورین(دو نوروں والا)کا لقب دیا گیا۔
آپؓسخاوت کے اعلی مرتبے پر فائز تھے ،دین اسلام کو یا مسلمانوں کوجب بھی مالی ضرورت پڑی تو آپؓ کا مال کثیر تعداد میں اگے نظر آتا تھا، چاہے وہ غزوہ تبوک کا موقعہ ہو یا بیررومہ کی خریداری کا ،آپ نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کی بڑی مالی خدمتیں کی اوررسول اﷲ کی اچھی اچھی دعائیں حاصل کی۔آپؓ کا شمار اُن صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے کہ جن کو حضور ﷺنے نزول وحی لکھنے پر معمور کیا ہوا تھا اسی وجہ سے آپؓ کو کاتب وحی کا لقب ملا۔
آپؓ حج وعمرئے بھی بکثرت ادا فرماتے تھے ۔صلہ رحمی کی صفت آپؓ میں کودکود کر بھڑی ہوئی تھی۔ہجرت کے بعد جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو بدر سے لیکر تبوک تک، تمام غزوات میں شریک رہے۔حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد آپؓ کو منصب خلافت پر فائز کیا گیا،آپؓ کی خلافت اتفاقی تھی ،حضرت عمر ؓکی شہادت کے بعد حضرت عبدالرحمن ؓنے فرمایا،کہ میرئے سپرد یہ معاملہ کردیا جائے کہ حضرت علیؓاورحضرت عثمان ؓمیں سے جو افضل ہوگا اسکا انتخاب کروں گا،چناچہ حضرت عبدالرحمن ؓ کویہ اختیار دیدیا گیااور تین دن کی مہلت دی گئی،حج کا موسم تھا لوگ حج سے فارغ ہوکر مدینہ منوّرہ آئے ہوئے تھے دوسرے مقامات کے لوگوں کا اجتماع بھی مدینہ میں تھا حضرت عبدالرحمن ؓنے خفیہ طور پر ہر مسلمان سے رائے لی اورحضرت عبدالرحمنؓ فرما تے ہے،کہ مجھے دو شخص بھی ایسے نہ ملے جو حضرت علیؓ کوحضرت عثمانؓپر ترجیح دیتے ہوں ،لہذابغیر کسی نزاع واختلاف کے حضرت عثمانؓ کا انتخاب ہوگیا اور سب نے ان کے دست مبارک پر بیعت کرلی۔
12سال آپؓنے خلافت کے فرائض سر انجام دیئے،اسلامی فتوحات کا سلسلہ بھی آپؓکے عہد مبارک میں قائم رہا اور مسلمانوں کی دینی ودنیوی ترقیاں یوما فیوما بڑھتی رہی ،آ پنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع فرماکر اسکی عمارت کو مظبوط بنوایا۔قرآن مجید کا اجتماع بھی آپؓ کے دور میں ہوا اسی وجہ سے آپؓ کو جامع القرآن کے لقب سے نوازا گیا۔
آپؓ کا دور فتوحات کی منزل کی جانب رواں دواں تھا اسی اثناءمیں یہودونصری (جوکہ اشاعت اسلام کی بہرتی ہوئی تیزی کو روکنے کے لئے اوّل دن سے مصروف ہے)نے ایک فتنہ بھرپا کیا اُس فتنے نے خلافت عثمانی ؓ کا انکار کرنا شروع کردیا، نام نہاد عاشقان علی ؓ بن کر حضرت عثمانؓ کو خلافت سے اتار نے لگے ،آپؓ کے گھر کا گھراﺅ ں کیا آپؓؓ پر پانی بند کردیاگیا،اور آپؓ کو شہید کرنے کے ارادے دن بدن مظبوط ہونے لگے ،حضرت علیؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں (حضرت حسن و حُسینؓ)کو حضرت عثمانؓکی حفاظت کے لئے گھر کے دروازے پر تلوار لیکر کھڑا کردیا،لیکن فتنہ انتہائی عروج پر پہنچ چکا تھا ،اُن کا مقصدحضرت عثمانؓکو منصب خلافت سے اتار نا تھا، تو بہت سے صحابہ اکرام ؓ آپؓکے پاس آئے اور فرمایا اس منصب کو چھوڑ دے ،توحضرت عثمان ؓ نے فرمایا ،میں اس منصب کو نہیں چھوڑ سکتا ،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا ،اے عثمان! اﷲتجھے ایک قمیص پہنائےگا ،لوگ اسکو اتارنا چاہے گے، تم نے لوگوں کے کہنے سے اگر اس قمیص کو اتاردیا تو جنّت کی خوشبو تم کو نصیب نہ ہوگی ۔لہذا میں اس پر رہوں گا،لوگوں نے کہا پھر آپؓکو اس ظلم سے نجات کیسے ملے گئی، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اب نجات کا وقت قریب ہے ،آج مینے نبی کریم ﷺکوخواب میں دیکھا آپ فرمارہے تھے اے عثمانآج افطاری ہمارے ساتھ کرنا،چناچہ آج مینے روزہ رکھا ہے او ر انشاءاﷲ افطار کے وقت رسول خدا کے پاس چلے جاﺅنگا،چناچہ ایسے ہی ہوا 40دن مسلسل آپؓپر پانی بند رکھنے کے بعد18ذی الحجہ کواس فتنے کے لوگ اپنے ناپاک عزائم لیکر حضرت عثمان ؓ کے گھر کی طرف بھڑئے گیٹ پر حضرت حسن و حُسین کو دیکھ کر 3آدمی گھر کے پچھلے جانب سے کود کر آندر آگئے، حضرت عثمان ؓ حالت روزہ میں قرآن شریف کی تلاوت میں مگن تھے کہ انہوں نے آپؓ پر تلوارے چلادیں آپؓ کا خون اس آیت پر گہرا فسیکفیکھم اﷲ وھوالسمیع العلیم،آپؓ کی بی بی صاحبہ نائمہ نے بہت شور کیا مگر ان کی آواز باہر تک نہ سنی گئی آخر کوٹھے پر چڑھ کر انہوں نے آواز دی کہ اے لوگو ں امیرالمﺅمنین شہید ہوگے یہ آواز سن کر لوگ اندر گئے تو دیکھا آپؓ شہید ہوگئے اور قاتل پشت کی دیوار سے کود کربھاگ گئے ۔اس طرح امیرالمﺅمنین حضرت عثمانؓ 18ذی الحجہ 35ھ بمطابق مئی 656کو اس دار فانی سے خالق حقیقی کو جاملے ،انّاا ﷲوانّا الیہ راجعون
، حضرت عثمانؓکی شان کے متعلّق قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں مروی ہے ۔
حضرت طلحہ بن عبیداﷲؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا!ہر نبی کا جنّت میں ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق عثمان ہے ۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ایک مرتبہ احد کے پہاڑ پر چڑھے اور آپﷺ کے ساتھ ابوبکرؓ،عمرؓاورعثمانؓ تھے، پہاڑ ہلنے لگا توآپﷺ نے اپنے پاﺅں سے اسکو اشارہ کیا اور فرمایا!اے احد ٹہر جا، تیرے اوپر ایک نبی ،ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے متعلّق فرمایا کہ میں اس شخص سے کیوں نہ حیاءکروں جس سے اﷲکے فرشتے بھی حیاءکرتے ہیں (صحیح مسلم)
غرض آپؓ اپنی ذات،صفات اور کمالات ہر اعتبار سے اعلی تر تھے۔آپؓکے دور خلافت میں بھڑپا ہونے والے فتنہ اور آپؓ کی شہادت کی خبر حضورﷺ نے پہلے ہی ارشاد فرمادی تھی اور فرمایا تھاکہ35سال کے بعد اسلام کی چکّی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گئی آپؓ کی شہادت ٹھیک ۵۳ھ میں ہوئی،اور حضرت انسؓ کی ایک یہ روایت بھی ہے کہ سول اﷲ ﷺ نے فرمایا خدا کی تلوار میان میں رہے گئی جب تک عثمان زندہ ہیں اور جس وقت عثمان شہید کردئے جائیں گے تو وہ تلوار میان سے نکال لی جائے گی اور قیامت تک میان میں نہ جائے گی ،اسی وجہ سے شہادت عثمان ؓ کے بعد سے مسلمان فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور وہ تلواریں جو کافروں پر چلتی تھی آپس کے مسلمانوں میں ہی چلنے لگی اور قیامت تک یہی حال رہیگا۔اﷲتعالی ہمیں حق والوں کی راہ پر چلنے کی توفیق عطافرمائے اور باطل وفتنہ پرستوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔۔آمین

Facebook Comments

POST A COMMENT.