مفتی نعیم ایک شخصیت نہیں تحریک تھے ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں ، علماء کرام کا تعزیتی اجلاس سے خطاب

مفتی نعیم ایک شخصیت نہیں تحریک تھے ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں ، علماء کرام کا تعزیتی اجلاس سے خطاب
جامعہ بنوریہ میں بیاد شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم تعزیتی اجلاس، اکابر علماء ، سیاسی وسماجی قائدین مدارس مہتمین کی شرکت
مولانا قاری محمد حنیف جالندھری ، مولانا ڈاکٹر عادل خان، مولانا منظور احمد مینگل ، مولانا ربنواز حنفی ، مولانا عزیز الرحمن ، مولانا راحت علی ہاشمی سمیت دیگر علماء وسیاسی وسماجی شخصیات کا خطاب مفتی محمد نعیم کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات کیلئے دعا کی
کراچی (23جون 2020)جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ میں رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم کی یاد میں تعزیتی ایک بڑا اجتماع کا انعقاد کیاگیا جس میںملکی وغیر ملکی سیاسی ، سماجی ، مذہبی اور دیگر مسالک کے علماء کرام اور نمائندوں ا ور مدارس مہتممین ائمہ مساجد اور طلبہ نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ،اس موقع پر مفتی محمد نعیم کی دینی ،ملی اور علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ مولانا تصور الحق مدنی ، پیر عزیز الرحمن ہزاروی کے انتقال پربھی تعزیت ورنج وغم کا اظہار کیا گیا ، ، تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہاکہ مفتی نعیم ایک شخصیت نہیں تحریک تھے ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہے ان سے اللہ نے بہت کام لیاہے، ان کے اہل مدارس پر بے شمار احسانات ہیں وہ کہیں بھی کسی بھی خطے میں عالم اسلام کیخلاف کچھ ہوتاآواز بلند کرتے تھے،پوری زندگی دین کی ترویج اشاعت میں گزاری ہے ان کی دینی وملی خدمات مشعل راہ ہیںان کا فیض اور مشن ہمیشہ جاری رہے گا ،جامعہ بنوریہ عالمیہ اور ان کے صاحبزادوں مولانا نعمان نعیم ،مولانا فرحان نعیم، حافظ حنظلہ اور دیگر اہلخانہ اور جامعہ بنوریہ عالمیہ کی انتظامیہ کی طرح ہم بھی آج غمگین ہیں عالم اسلام کا درد رکھنے والی شخصیت ہم سے بچھڑگئی ان کا خلاء صدیوں پر نہیں ہوسکے گا،،وہ مذہبی طبقہ اور اہل مدارس کیلئے ایک سائباں کی حثیت رکھتے تھے آج وفاق المدارس العربیہ اور تمام اہل مدارس غم میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یقین دلاتے ہیں جامعہ بنوریہ کی انتظامیہ مولانا نعمان نعیم اور صاحبزادگان کو کہ ان کے ساتھ ہمیشہ ہمارا تعاون جاری رہے گاتمام اہل مدارس ان کے دست وبازوں بنیں گے۔ جامعہ فاروقیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عادل خان نے اپنے خطاب میں کہاکہ مفتی محمد نعیم قومی وملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہ مدارس اور دینی طبقے کی توانا ء آواز تھے اہل مدارس اور علمی طبقہ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کریگا اور ان کا یہ فیض ہمیشہ جاری رہے گا وہ دین کی خدمت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ،مفتی صاحب تمام مذہبی واسلامی تحریکوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے تھے آج اہل مدارس اور مذہبی طبقے کو ایک مفتی محمد نعیم جیسے نڈر، بے خوف عالم دین کی ضرورت ہے ،انہوںنے مزید کہاکہ مدارس کو تعلیم کیلئے ایس اوپیز کے تحت کھولنا مفتی صاحب کی خواہش تھی کیونکہ مدارس میں قرآن پڑھا جاتاہے اس سے وبائیں ختم ہوں گی ،ہم جلد ہی مدارس کھولنے کا اعلان کریں گے، انہوں نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کو ایک عالمی درسگاہ بنایا آج پوری دنیا میں اس کی شاخیں قائم ہیں ،ایک مدبر عالم تھے جن کو کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب سے عظیم خدمات لی ہیں جن کا تذکرہ قیامت تک جارہی رہے گااور آیندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ بنے گا۔وکیل احناف مناظر اسلام مولانا منظور احمد مینگل نے کہاکہ ایک جراتمند عالم دین تھے وہ کوئی بھی فیصلہ کرتے تو ڈٹ جاتے تھے ، ان کی عظیم خدمات میں یہ ہے کہ کوئی بھی شخص ان کے پاس مدد کیلئے آتا اسے خالی نہیں لوٹاتے، چاہیے وہ ان کا ادارے سے تعلق تھا یا نہیں، ان کا ہر مذہبی شخص سے برادرانہ اور مخلصانہ تعلق تھا ، مفتی محمد نعیم صاحب ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جراتمندی اور اہل حق کی توانا آواز بھی بند ہوگئی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں وہ ہمیں نعم البدل عطاء فرمائے ۔ اہلسنت والجماعت کے مولانا ربنواز حنفی کہاکہ مفتی محمد نعیم ایک سائباں تھے جن کی شفقت اور محبت ہمیں یاد آئے گی ، ہم ان کی دینی وملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ، ختم نبوت کے مولاناقاسم نے کہاکہ مفتی محمد نعیم اتنے خوش قسمت تھے کہ جب انہوں نے آنکھ کھولی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے پورے خاندان کو اسلام کی نعمت سے سرفراز کیا آج وہی بچہ اسلام کی عظیم خدمات سرانجام دیکراللہ کا محبوب بن گیا ،، جمعیت علماء اسلام کے قاری محمد عثمان ،مولانا عبدالقیوم نعمانی ، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن ،جامعہ درالصفہ کے مفتی محمد زبیر ،جامعة العلوم الاسلامیہ کے مولاناسعیداسکندر،مولانامحمدزیب ،جامعہ دارلعلوم کراچی کے مولاناعزیزالرحمن، مولاناراحت علی ہاشمی ،جامعہ اشرف المدارس کے مولانامحمدابراہیم ۔حکیم مظہرکے صاحبزادے مولاناعبداللہ ،جامعہ تعلیم القرآن کے قاری اللہ داد،ممتازقار قرآن قاری اکبرمالکی ،ممتاز نعت خواں حافظ ابوبکرمدنی ، جمیعت اہل حدیث کے مرکزی امیر مولانا یوسف قصوری ، بشپ نذیر عالم،،جمعیت علماء اسلا م (ف)کے قاری محمدعثمان،جمعیت علماء اسلام (س)کے مولاناحماد مدنی جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مولانا عبدالحمیدغوری ،مولاناعزیزالرحمن ہزاروی ،مولاناغلام رسول،مولاناسیف اللہ ربانی،مولاناعزیزالرحمن عظیمی سمیت دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے خطاب کیا ۔ اس موقع پرمولانا حنیف جالندھری ، ڈاکٹر محمد عادل خان ، مولانا منظور حمد مینگل ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید خان غوری ،مولانا اسماعیل دھلوی سمیت دیگر نے تمام اہل مدارس علماء اور سیاسی وسماجی قائدین کی موجودگی میں مفتی محمدنعیم کے بڑے صاحبزادے مولانا نعمان نعیم کی دستاربندی کی اور یہ اعلان کیا کہ آج سے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مولانا نعمان نعیم ہوں گے ،، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم مولانا نعمان نعیم نے کہاکہ میرے والد محترم کے انتقال سے میں ٹوٹ چکا تھا لیکن مجھے پوری قوم کے لیڈران بالخصوص اکابر علماء نے حوصلہ دیا والد محترم کا مشن انشاء اللہ جاری رہے گا جامعہ بنوریہ عالمیہ کے دروازے ہر طبقے کے ہر شخص کیلئے اسی طرح کھلے رہیں گے جیسے والد صاحب کے زمانے میں تھے، میں اپنے اکابر علماء کرام کو یقین دلاتاہوں کہ والد محترم کے مشن پر چلتے ہوئے اسی طرح دینی خدمات جاری رہیں گی ، انہوںنے کہاکہ حضرت والد محترم نے ہمیشہ دلوں کو جوڑا ہر ایک کے ساتھ مخلصانہ تعلق رہاہے وہ سب انشاء اللہ جاری رہے گا،

Facebook Comments

POST A COMMENT.