سندھ اسمبلی میں جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ الزھرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پیش کردہ قرارداد میں ان کو ام الانبیاء کہنا جہالت پر مبنی ہےسربراہ اہلسنت والجماعت پاکستان علامہ محمداحمد لدھیانوی

سندھ اسمبلی میں جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہ الزھرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پیش کردہ قرارداد میں ان کو ام الانبیاء کہنا جہالت پر مبنی ہے۔اہل بیت عظام اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے جوتوں کی خاک پر ہمارا تن من دھن قربان ہے۔ایک ہی وقت میں پیش کردہ دو قراردادیں جن میں ایک کہ آپ ﷺ کے اسم مبارک کے ساتھ خاتم النبیین کا لفظ بولنا لازمی قراردیا گیا جب کہ اسی کے ساتھ دوسری پیش کردہ قرار داد میں جگر گوشہ رسول خاتم النبیین ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ الزھرہؓ کو ام الانبیاء یعنی نبیوں کی ماں قراردینا خاتم النبیین کی نفی ہے۔ اہلسنت والجماعت پاکستان کے سربراہ علامہ محمداحمد لدھیانوی نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملک کے اہم ترین ایوان میں بیٹھے سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے نہ اس کی تصیحیح کروائی گئی اور ناہی اس پر اعتراض کیا گیا ۔
علامہ لدھیانوی نے کہ اس قرارداد میں ترمیم کرکے اس لفظ کو فوری طور پر حذف کیا جانا چاہیے ورنہ اس کا بوجھ تمام ارکان اسمبلی پر ہوگا۔اللہ تعالی نے اہل بیت اطہار کا مقام و مرتبہ بہت بلند و بالا بنایا ہے ایسے الفاظ کا استعمال ایل بیت کی بھی گستاخی کے ذمرہ میں آتی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.