ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ!تحریر:مولانامحمدسعدندیم

صاحبزادہ علامہ عبدالغفورندیم شہیدؒ

نام عائشہ لقب صدیقہ ام المؤمنین-حمیرا-آپﷺ آپ رضی اللہ عنہاکوبنت صدیق سےبھی یادفرماتےتھے۔والدکانام سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ۔سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کانسب آٹھویں پشت میں نبی کریمﷺکےنسب سےمل جاتاہے۔آپکی والدہ کانام زینب ام رومان ہے۔آپکاپہلانکاح عبداللہ یزدی رضی اللہ عنہ سےہوا۔انکےانتقال کےبعدآپکانکاح سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سےہوگیا۔سیدناصدیق اکبررضی اللہ عنہ سےانکےدوبچےہوئے۔حضرت عبدالرحمٰن اورسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکووائل کی بیوی نےدودھ پلایا۔وائل کےبھائی افلحہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکےرضاعی چچاکےطورپرکبھی کبھی آپ رضی اللہ عنہاسےملنےآیاکرتےتھے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاآپﷺکی اجازت سےان کےسامنےآیاکرتیں تھیں۔بخاری شریف میں ہےکہ کبھی کبھی آپ رضی اللہ عنہاکےرضاعی بھائی بھی ملنےآیاکرتےتھے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابچپن سےہی بہت ذہین تھیں۔لڑکپن میں آپ کھیل کھودکی بہت شوقین تھیں۔محلےکی لڑکیاں ہروقت انکےپاس جمع رہتیں۔آپ رضی اللہ عنہااکثران کےساتھ کھیلاکرتیں تھیں۔لیکن اس لڑکپن میں بھی آپﷺ کاادب ہرلحاظ سےملحوظ رکھتیں۔ایک مرتبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاگڑیاسےکھیل رہیں تھیں۔کہ رسول اکرمﷺپہنچ گئے۔گڑیوں میں ایک گھوڑابھی تھا۔جس کےدائیں بائیں دوپرلگےہوئےتھے۔رسول اکرمﷺنےفرمایایہ کیاچیزہے؟جواب دیاکہ یہ گھوڑاہے۔آپﷺنےفرمایاگھوڑوں کےپرتونہیں ہوتے۔توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانےفرمایاکیوں؟حضرت سلیمان علیہم اسلام کےگھوڑوں کےپرتوتھے۔آپ بےساختہ ہوکرمسکرادئیے۔اس واقع سےسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی فطری ذہانت کااندازہ ہوتاہے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانکاح کےبعدتین برس تک اپنےوالدین کےگھرپررہیں۔دوبرس تین ماہ مکہ میں اورمدینہ میں سات مہینےہجرت کےبعداپنےگھرمیں رہیں۔آپ رضی اللہ عنہاکی رخصتی پہلی ہجری شوال کےمہینےمیں ہوئی۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکاتعلیم وتربیت کااصلی زمانہ رخصتی کےبعدشروع ہوا۔انہوں نےاسی زمانےمیں لکھناپڑھناسیکھا۔ناظرہ قرآن مجیدبھی اسی زمانہ میں آپ رضی اللہ عنہانےپڑھا۔احادیث میں ہےکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکےلئےقرآن مجیدانکاغلام ذکوان لکھاکرتاتھا۔آپ رضی اللہ عنہانےتاریخ وادب کی تعلیم اپنےوالدسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سےحاصل کی تھی۔طب کافن عرب سےسیکھاتھا۔عرب کےطبیب جونسخےآپﷺکوبتاتےتھےآپ رضی اللہ عنہاانکویادکرلیتں۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکوکسی اورکالج ویونیورسٹی میں داخلہ لینےکی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپ رضی اللہ عنہاکااپناگھردنیاکےسب سےبڑےمعلم شریعت سےآراستہ تھا۔یہی درسگاہ اورتعلیم گاہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکےعلم وفضل کاسب سےبڑادریعہ تھی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاجس گھرمیں دلہن بن کرآئیں تھیں۔وہ کسی عالیشان بلڈنگ یااعلی درجہ کی بلندعمارت پرمشتمل نہ تھا۔مسجدنبویﷺکےچاروں طرف چھوٹےچھوٹےحجرےتھے۔انہی میں ایک حجرہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکامسکن تھا۔یہ حجرہ مسجدنبویﷺکی شرقی جانب تھا۔اس کاایک دروازہ مسجدکےاندرکھلتاتھا۔حجرےکاصحن ہی مسجدنبوی کاصحن تھا۔آج اسی حجرےمیں آپﷺسیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اورسیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ آرام فرمارہےہیں۔آپﷺاسی دروازےسےہوکرمسجدمیں تشریف لےجاتے۔جب آپ مسجدمیں اعتکاف کرتےتوسرمبارک حجرےکےاندرکردیتے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہااسی جگہ بالوں کوکنگھی کردیتی۔حجرےکی وسعت چھ سات ہاتھ سےزائدنہیں تھی۔دیوارمٹی کی تھی۔چھت کھجورکی ٹہنیوں سے ڈھانپ کراوپرکمبل ڈالاگیاتھا۔تاکہ بارش کی زدسےمحفوظ رہے۔بلندی اتنی تھی کہ آدمی کھڑاہوتاتوہاتھ چھت کولگ سکتاتھا۔گھرکی کل کائنات ایک چارپائی ایک چٹائی ایک بسترایک تکیہ جس میں کھجوروں کی چھال بھری ہوئی تھی۔آٹااورکھجوریں رکھنےکےلئےدوبرتن تھے۔پانی کےلئےایک بڑابوتن اورپانی پینےکےلئےایک پیالہ تھا۔کبھی کبھی رات کوچراغ جلانابھی استطاعت سےباہرتھا۔چالیس چالیس راتیں گزرجاتیں اورگھرمیں چراغ نہیں جلتاتھا۔آپﷺکایہ معمول تھاکہ جب بھی کسی غزوہ میں تشریف لےجاتےآپﷺکی ایک بیوی خدمت گزاری کےلئےساتھ ہوتی۔ہرمرتبہ قرعہ اندازی ہوتی جس بیوی کانام نکلتااس کوساتھ لےجاتے۔دوغزوات میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاآپﷺکےہمراہ تھیں۔رسول اکرمﷺسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسےبےپناہ محبت رکھتےتھے۔اوریہ تمام صحابہؓ کومعلوم تھا۔اس وجہ سےلوگ قصداًزیادہ ہدئیےاورتحفےبھیجتے۔جس روزسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکےہاں آپﷺکےقیام باری ہوتی توازواج مطھرات کواس کاملال ہوتالیکن کوئی ٹوکنےکی ہمت نہ کرتا۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکوآپ سےناصرف محبت تھی بلکہ عشق تھا۔کبھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہارات کوبیدارہوتی آپﷺکوبسترپرناپاکربیقرارہو
جاتیں۔ایک رات آنکھ کھلی توآپﷺکوبسترپرناپایا۔کیونکہ اس وقت چراغ نہیں جلتےتھےاوراندھیراہوتاتھا۔توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاآپﷺکواندھیرےمیں ادھراُدھرٹٹولنےلگیں۔ایک جگہ آپﷺکاقدم مبارک ملادیکھاتوآپﷺسربسجودہوکرمناجات الہی میں مصروف ہیں۔ایک اورواقعہ بھی ہےکہ رات کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی آنکھ کھلی اس وقت رات کانصف حصہ بیت چکاتھا۔آپ رضی اللہ عنہانےرسول اکرمﷺکوبسترپرناپاپھرآپ رضی اللہ عنہانےرات کےاندھیرےمیں آپﷺادھرادھرٹٹولناشروع کیالیکن محبوب کاجلوہ نظرنہیں آیا۔آخرتلاش کرتی کرتی قبرستان پہنچ گئیں۔دیکھاکہ آپﷺدعاواستغفارمیں مصروف ہیں۔الٹےپاؤں واپس گھرکی طرف لوٹیں اورصبح کےوقت ساراواقعہ آپﷺکےسامنےبیان فرمایا۔نبی کریمﷺنےارشادفرمایاہاں میرےسامنےسےکوئی چیزجاتی ہوئی معلوم ہوئی تھی وہ تم تھیں۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکااخلاق نہایت بلندتھا۔وہ نہایت سنجیدہ اورعبادت گزاررحم دل تھیں۔رسول اکرمﷺکی اطاعت وفرمانبرداری اورآپﷺکی مسرت اوررضاکےحصول میں شب و روزکوشاں رہتیں۔اگرکبھی ذرابھی آپﷺکےچہرےپرپریشانی کےاثاردیکھتیں توبیقرارہوجاتیں۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابہت بہادراوردلیرتھیں۔راتوں کواٹھ کرقبرستان پہنچ جاتیں۔میدان جنگ میں آکرکھڑی ہوجاتیں۔غزوہ احدمیں جب مسلمانوں میں اضطراب برپاتھا۔اپنی پیٹھ پرمشک لادکرزخمیوں کوپانی پلاتی تھیں۔سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کاآخری حصہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکاآخیرزمانہ تھا۔اس وقت آپ رضی اللہ عنہاکی عمرسرسٹھ سال تھی۔58ھ رمضان کےمہینےمیں بیمارہوئیں۔چندروزتک علیل رہیں۔کوئی پوچھتاتوفرماتی اچھی ہوں ٹھیک ہوں۔مرض الموت میں وصیت کی کےاس حجرےمیں آپﷺکےساتھ مجھےدفن ناکرنا۔مجھےدیگرازواج مطھرات کےساتھ جنت البقیع میں دفن کرنا۔اورجب دنیاسےرخصت ہوجاؤں تورات کوہی دفن کردی جاؤں۔صبح کاانتظارنہ کیاجائے۔58ھ 17رمضان المبارک 13جون 678ء تھی نمازوترکےبعدرات کےوقت وفات پائی۔جنازہ میں اتناہجوم تھاکہ لوگوں کاکہناتھاکہ رات کےوقت اتناہجوم ہم نےکبھی نہیں دیکھا۔حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اس وقت کےقائم مقام حاکم تھے۔انہوں نےنمازجنازہ پڑھائی۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکوانکےبھتیجوں اوربھانجوں نےقبرمیں اتارا۔اورحسب وصیت جنت البقیع میں مدفون کیاگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.