امام اہلسنت حضرت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ


1963 میں خیرپور میرس سندھ میں حاجی وارث جانوری کے گھر جانوری گوٹھ میں علامہ علی شیر حیدری شہیدپیدا ہوئے ، کل 9 بہن بھائیوں میں علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ سب سے بڑے تھے ، آپؒ کے 5 بھائیوں کا نام علی رضا ، بلاول ، علی حیدر ، محمد الیاس اور مولانا ثنا اللہ حیدری ہے ، آپؒ کی 3 بہنیں ہیں ،حضرت حیدری شہیدؒنے دو شادیاں کیں لیکن اولاد سے محروم رہے ، علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب اور مولانا معاویہ اعظم صاحب سمیت کئی جماعتی کارکنان کو محبت سے اپنا بیٹا کہہ کر پکارا کرتے تھے ، ٹھیڑی کے مدرسے دارلہدیٰ سے حیدری شہیدؒ نے تعلیم مکمل کی ، ان کی تعلیم میں ان کے چچا اور علامہ عبدالجبار حیدری صاحب کے والد محترم فضل محمد جانوری مرحوم نے بہت تعاون کیا ، خیرپور میرس میں اپنے گھر کے ساتھ ہی جامعہ حیدریہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کیا جو آج بھی اپنے شباب پر ہے ، علامہ حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ سکھر میں ایک کانفرنس میں خطاب کیا ، جس پر علامہ جھنگوی شہیدؒ نے ان کی بہت تعریف کی ، علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ جماعت میں باضابطہ طور علامہ حق نواز جھنگوی کی شہادت کے بعد مارچ 1990 میں شامل ہوئے ، آرام باغ کراچی میں کانفرنس تھی ، کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد مولانا احمد مدنی شہیدؒ کے مدرسے جامعہ محمودیہ میں صوبہ سندھ کا اجلاس تھا ، علامہ علی شیر حیدری شہید ؒ کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت تھی ، اجلا س کی صدارت مرکزی سرپرست اعلیٰ علامہ ضیا الرحمٰن فاروقی شہید فرما رہے تھے ، اس وقت محمد فاروق آزاد صاحب صوبہ سندھ کے صدر اور حافظ احمد بخش ایڈوکیٹ شہید سیکریٹری جنرل تھے ، مولانا اعظم طارق شہیدؒ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری تھے ، اسی اجلاس میں مولانا اعظم طارق شہیدؒ کو نائب سرپرست بنا کر جھنگ بھیجا گیا ، محمد فاروق آزاد صاحب کو مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا ، جبکہ علامہ ضیا الرحمٰن فاروقی شہیدؒ نے علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کو صوبہ سندھ کا صدر نامزد کردیا ، ضیا الحق کے دور حکومت میں علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے جیل کاٹی جس میں ان پر بہیمانہ تشدد ہوا ، جماعت میں شمولیت سے قبل ہی ان پرشیعہ سنی کی بنیاد پر کئی ایف آئی آر درج ہوچکی تھیں ، 18جنوری 1997 کو علامہ ضیا الرحمٰن فاروقی ؒکی شہادت کے بعد جماعت کے مرکزی سرپرست اعلیٰ منتخب ہوئے ، جس کے بعد تقریبا 15 ماہ شہباز شریف کے حکم پر پنجاب کی جیلیں کاٹنی پڑی ، اسی قید میں انہوں نے قرآن کریم بھی حفظ کیا ، مولانا اعظم طارق 6 اکتوبر 2003 کو شہید ہوئے تو جماعت کی مزید ذمہ داریاں حیدری شہید ؒکے کاندھوں پر آگئیں ، انہوں نے ان ذمہ داریوں کو احسن انداز میں انجام دیا ، ، 22 اپریل 2004 کو ان کے والد محترم حاجی وارث کو صحابہ کے باغیوں نے فائرنگ کر کے شہید کیا ، اس حملے میں مدرسے کے طلبہ بھی زخمی ہوئے ، لیکن علامہ حیدری شہید ؒکے عزائم کمزور نہیں ہوئے ، انہوں نے صحابہ کے باغی کے خلاف پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھی ، علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ کو صحابہ کرام ؓسے بے انتہا محبت تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو نسبت بھی ویسی ہی عطا فرمائی ، حضرت عثمان غنیؓ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے ، حضرت حیدری شہیدؒ جماعت کے تیسرے سرپرست اعلیٰ بنے ، حضرت عثمان غنیؓ کا دور خلافت 12 سال سے ذائد عرصے پر محیط تھا ، علامہ حیدری شہیدؒ بھی جماعت کے 12 سال سے ذائد مرکزی سرپرست اعلیٰ رہے ، حضرت عثمان غنیؓ بھی اپنے شہر میں مظلومانہ شہید کئے گئے ، حضرت حیدری شہیدؒ بھی اپنے ہی شہر میں بے گناہ شہید کئے گئے ، حضرت عثمان غنیؓ کے قاتل بھی پہچانے گئے ، حضرت حیدری شہید کے قاتل بھی پہچانے گئے ، حضرت عثمان غنیؓکی شہادت کو بھی آپس کی لڑائی قرار دینے کی کوشش کی گئی ، حیدری شہید ؒکے قتل کو بھی پلاٹ کا نام دے کر ذاتی جھگڑا قرار دینے کی کوشش کی گئی ، حضرت عثمان غنیؓکے گھر کا محاصرہ ہوا ، حضرت حیدری شہید ؒ کے مدرسے کے سامنے پلاٹ پر قبضہ کر کے مدرسے کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی گئی ، حضرت عثمان غنی? کی قبر مبارک اپنے پیشواوں سے علیحدہ بنی ، حضرت حیدری شہید? کی قبر مبارک بھی اپنے پیشواوں سے علیحدہ بنی ، حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد جماعت صحابہؓ میں رائے کا اختلاف ہوا ، حضرت حیدری شہیدؒ کے بعد صحابہ ؓکی سپاہ میں بھی رائے کا اختلاف ہوا ، منافقین نے ان کے اختلاف سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ، منافقین نے یہاں بھی جلتی پر مزید تیل چھڑکا ، پس علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ اسلام کے ہیرو تھے ، انہوں نے ساری زندگی صحابہ کرام ؓ کی عزت و ناموس پر قربان کردی ، انہوں نے جماعت اور اپنے علم سے کبھی کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا ، 17 اگست 2009 کو علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ ایک گوٹھ سے جلسہ کر کے آرہے تھے رات کے آخری حصے میں صحابہ کے باغیوں نے گھات لگا کر فائرنگ کی جس میں علامہ علی شیر حیدری معروف نعت خواں امتیاز پھلپوٹو سمیت شہید ہوگئے ، نماز جنازہ علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب نے پڑھائی ، یہ علامہ حیدری شہید کا فیض ہے کہ علامہ عبدالجبار حیدری صاحب ، علامہ ثنا اللہ حیدری صاحب اور علامہ عبدالصمد حیدری صاحب سمیت ہزاروں شاگرد آج بھی صحابہ کے باغی کے خلاف میدان میں موجود ہیں ، علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کی قیادت میں ایک منظم جماعت آج بھی پرامن اور آئینی جدوجہد کر رہی ہے سلام علامہ علی شیرحیدری شہید? تمہیں لاکھوں سلام ، تم پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ، تم نے جیلیں کاٹیں ، تم نے بہیمانہ تشدد برداشت کیا ، تم نے اپنے بیگانوں کے طعنے سہے ، لیکن تم نے صحابہ کرام کی عزت و ناموس پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا ، تمہیں لاکھوں سلام ، تمہارا نظریہ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.