یہ گھر کیوں لوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ تحریرسیدسکندرشاہ

یہ گھر کیوں لوٹ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

2010 میں علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب مرکزی سیکریٹری اطلاعات بنے اور میں صوبائی سیکریٹری اطلاعات بنا احباب جانتے ہیں اس دور جیسا نشرو اشاعت کا کام جماعتی تاریخ میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا نہ بعد میں ، 2010 میں ہی ملک بھر کے تمام سیکریٹری اطلاعات کا کنونشن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کے مدرسے جامعہ فاروقیہ کمالیہ میں ہوا مولانا معاویہ اعظم صاحب بھی بطور مبصر شریک ہوئے کنونشن سے فراغت کے بعد مولانا معاویہ اعظم صاحب کی پرخلوص دعوت پر میں علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب ، خرم اسحاق قائم خانی ، عمران معاویہ اور مفتی سعود الرحمٰن شہید جھنگ پہنچے ، ساری رات جماعت کو کیسے آگے لے کر جانا چاہیئے اسی پر گفتگو ہوتی رہی ، فاروقی صاحب کی صلاحیتوں سے تو سب واقف ہیں لیکن مولانا معاویہ اعظم صاحب بھی تعمیری اور تخلیقی ذہن رکھتے ہیں ، اختلاف رائے جس بے باکی کے ساتھ مفتی سعودالرحمٰن شہید کیا کرتے تھے یہ انہی کا خاصہ تھا غرض پوری رات جاگ کر اسی فکر میں گزار دی کہ جماعت کو کیسے آگے بڑھایا جائے ، مفتی سعودالرحمٰن شہید سے یہ میری پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس میں مجھے اندازہ ہوا کہ مفتی سعودالرحمٰن شہید جماعت کا قیمتی اثاثہ ہیں ، علامہ تاج محمد حنفی صاحب ایک روز فرما رہے تھے کہ کراچی میں بڑی بڑی شخصیات ہم سے جدا ہوئیں لیکن مفتی سعود الرحمٰن شہیدؒ اور ڈاکٹر فیاض خان شہیدؒ کی شہادت پر میں جتنا رویا اتنا کسی کی شہادت پر مجھے جدائی کا صدمہ نہیں پہنچا یہ دونوں واقعی جماعت کا قیمتی سرمایہ تھے ، مفتی سعودالرحمٰن شہیدؒ 26 سال کی عمر اتنا کام کر گئے کہ شاید میں 56 سال کی عمر میں اتنا کام نہ کر سکوں ، سعود شہید دو بار جیل گئے پہلی بار 10 دن کے لئے 2009 میں اور دوسری بار دسمبر 2010 میں 25 دن کے لئے جب سعود شہیدؒ رہا ہو کر آئے تو ٹنڈوالہیار کی جماعت کا وفد ان کو رہائی کی مبارکباد دینے کے لئے کراچی گیا ہم ایک ہفتے بعد گئے تھے سعود شہید نے بتایا تھا کہ اتنا بدترین ٹارچر ہوا ہے کہ مجھے ایک ہفتے بعد بھی اتنی ہی تکلیف محسوس ہورہی ہے جتنی پہلے دن ہو رہی تھی ، 2009 اور 2010 میں 3 قاتلانہ حملے مفتی سعودالرحمٰن شہید ؒ پر ہوئے ، 30 اپریل 2011 کو ایرانی پراکسیوں نے کراچی میں ملکی تاریخ میں پہلی بار حرمین شریفین اور برادر دوست ملک سعودی عرب کے خلاف ایک ریلی نکالی جس کے بعد کراچی شہر میں سعود آل سعود کے خلاف غلیظ بینرز لگائے گئے اور وال چاکنگ کی گئی ، جس کے بعد ریاست کو متحرک ہونا چاہیئے تھا لیکن ریاستی ادارے خاموش رہے تو علما کرام حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے آگے بڑھے 6 مئی کو کراچی میں مفتی نعیم صاحب کی قیادت میں تحفظ حرمین شریفین ریلی نکالنے کا اعلان کردیا گیا ، ریلی کی تیاریوں کی ذمہ داری علما کرام نے اہلسنّت والجماعت کو دی ، مفتی سعودالرحمٰن شہید ریلی کی تیاریوں میں ہی مصروف تھے کہ 5 مئی 2011 کو عصر کی نماز کے بعد ضیاالدین ہسپتال کے قریب انہیں شہید کردیا ان کے جسم میں 19 گولیاں لگیں ، چند ماہ بعد مفتی سعود الرحمٰن شہید ؒکی شادی تھی بہنیں شوق کے ساتھ اپنے بھائی کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں کہ جوان بھائی کا لاشہ گھر پہنچ گیا ، ڈاکٹر فیاض خان شہید ، میں اور علامہ مسعودالرحمٰن عثمانی صاحب جنازے کے ساتھ گھر سے نکلے انتظامیہ رکاوٹ بن رہی تھی لیکن فیاض بھائی نے بہت ہمت دکھائی ، راستے میں ڈاکٹر فیاض خان شہیدؒ فرمانے لگے کہ مفتی سعود ٹی 20 کا کھلاڑی تھا ،اپنی اور عثمانی صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم ون ڈے کے کھلاڑی ہیں پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے شاہ صاحب ٹیسٹ کے کھلاڑی ہیں ، مشکلات میں جب صبر مشکل ہوتا تھا ڈاکٹر فیاض خان شہید ایسے وقت میں بھی مسکراتے تھے ، اب ہم آج سے 7 سال پیچھے چلتے ہیں مفتی سعودالرحمٰن شہید کا گھر ہے 8 بہن بھائی ہیں ماں ، باپ ہیں گھر میں مالی خوشحالی ہے اور آج 2017 میں وہ ہنستا بستا گھر اجڑ گیا ہے مفتی سعود کے بعد ان کی بہنوں کو ایک اور غم ملا دوسرے بھائی مولانا مسعود بھی شہید ہوچکے ، ان کے ایک جوان بھائی 5 سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں گھر پر آئے روز کے چھاپوں اور گرفتاریوں سے تنگ آکر گھروالوں نے گھر بھی تبدیل کر لیا ہے یہ گھرانہ یہ گلشن ویران ہو گیا بوڑھے والدین پر کیا بیتی ہوگی ، جوان بہنیں کیا سوچتی ہوں گی ، یہ شہیدوں کی قربانیاں ہم سے کیا تقاضا کرتی ہیں ، یہ گھر کے گھر یہ خاندان کے خاندن کیوں لٹ گئے ، کبھی وقت ملے تو اس بارے میں بھی ضرور سوچنا۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.