آج آپ کی ملاقات, ایک ایسے شخص سے ہو رہی ہے, جسکی سحری لاہور کوٹ لکھپت جیل میں اور افطاری جنت میں ہوئی

لقد خلقناا لانسان فی احسن تقویم: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے انسان کو بنایا خوب اچھے انداز سے۔
اس آیت کا کامل اورحقیقی مصادق تو حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ہی بنتے ہوئے نظر آتی ہے اور عمومی طور پر بھی ہر انسان کو خالق کائنات نے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے اورظاہری و باطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کیں ہیں۔اگر یہ اپنی صحیح فطرت پر ترقی کرے تو فرشتوں سے گویا سبقت لے جائے اور مسجود ملائکہ بنے ۔البتہ جب منکر ہو تو پھر کالانعام بل ھم اضل جانور سے بھی بدتر ہے ۔ حضرت علامہ ضیاءالرحمن فاروقی شہیدؒ کی ذات گرامی کو بھی خالق ارض و سماءنے کچھ ایسے ہی ظاہری و باطنی صفات و کمالات کے سانچے میں ڈھالا تھا کہ وہ بظاہر ایک وجود ایک جسم ایک جان ہونے کے باوجود کئی باکمال انسانوں کا وہ مجموعہ تھے۔
ولیس علی اللہ بمستکر ان یمع العالم فی واحد
یہ مبالغہ آرائی نہیں نہ ہی حدیث خواب ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو کہ حضرت فاروقی شہیدؒ کی کتاب زندگی میں موجود ہے۔ حضرت مولانا ضیاءالرحمن فاروقی شہیدؒ بیک وقت حافظ قرآن ، عالم دین، خطیب ، ادیب، مصنف، متکلم، مو¿رخ ، مدبر قائد ، مفکر اسکالر، سیاست دان، بہترین دوست، استقامت کے پہاڑ، ایک اسیر محبت، ایک شہید مظلوم اور بہت کچھ جو اس مختصرسے مضمون میں سمانامشکل ہے، بس صرف مذکورہ اوصاف کی مختصر وضاحت۔
حافظ قرآن: حضرت فاروقیؒ نے حفظ سید نذر محمد شاہ صاحب سے1967ءمیں حفظ قرآن مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پھر وہ حافظ قرآن ایسے کہ سارا قرآن یاد بھی ہے تلاوت بھی تفسیر بھی، تشریح بھی اسی سے تقریر بھی اور تحریر مستفید بھی، احکام الہیہ کی تعمیل بھی ہے۔
عالم دین: حضرت فاروقیؒ، عالم باعمل بھی تھے اور عالم دین ایسے کہ گویا کہ علم کہ سمندرٹھاٹھیں مارتا ہواآرہا ہو ، توحید بیان کرتے ہوئے اللہ کے وحدانیت کے جو اہر پارے تقسیم فرماتے، سیرت میں اللہ کے محبوبﷺ کے بچپن لڑکپن ،بچپن کی باتیں،چہرہ ، رخسار زلف و نبیﷺ کی پیاری باتیں ، سیرت و صورت ، قدوکردار کی باتیں، جبرئیل و قرآن کی رحمت ،معراج و کوثر کی باتیں ، صدیقؓو فاروقؓکے قصے، عثمانؓ ،حیدرؓ، حسنؓ وحیسنؓ و معاویہؓ کے وقار کی باتیں ، اصحاب صفہ کے جلوے ، بدرواحد و حنین کی باتیں ۔ علم کے بحر بے کنار بھی غوطہ زن ہوکر نایاب علمی جواہر پارے گوہر پارے بکھیرتے تھے۔
خطیب اسلام: حضرت فاروقیؒ ایک بہترین خطیب تھے، خطیب بھی ایسے کہ جب بولتے تو معلومات کے موتی رولتے۔ آپ کی خطابت کے چمنستان میں توحید و رسالتﷺ ، عظمت صحابہؓ واہلبیتؓ ، علماءو اولیاءکی تعریف و توصیف کی معلومات کے بے بہا خزانے ہوتے۔ جب وہ بولتے تو توحید کی نغمہ سرآئی سامعین کے احساسات کو مہکادیتی۔ اسی طرح سیرت کے عنوان کے لب اظہار کے معطر پیمانوں سے بھر کر سننے والوں کے خیالات و افکار پر شبنم افشائی کرتے ، مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی گلیوں اور ذرات کے ذکر کی خوشبومشک و عنبر، بنکر الفاظ کی صورت میں مجمع میں مہکنے لگتی۔ شان صحابہؓ و اہلبیتؓ کے ایمان افروز پروقار تذکرے کا اسلوب مخاطبین کے دل و دماغ کو محبت و مستی میں لاکر صحابہؒ و اہلبیت ؓ کا دیوانہ بنادیتی۔ فاروقیؒ جیسا خطیب جب اپنے انداز میں اظہار حق کرتے ہوئے حکمرانوں اور دشمنان صحابہؓ کو للکارتے تو یقینا ان کے ایوانوں میں زلزلہ آجاتا، دیواریں دہل جاتی، کفر وکبر میں مغرور بوجہلوں کے سینے چھل جاتے، استبداءکے آمرجابر تھرتھر کانپنے لگتے ۔ باطل ظالم اپنی ہی ظلمت کے اندھیروں میں ہانپنے لگتے ۔ حضرت فاروقیؒ کی حق گو خطابت سے اک شمع صداقت روشن ہوتی ، ہر سمت اجالا ہوجاتا ، کفر کا منہ کا لاہوجاتا بزرگوں کے منہ سے ان کے مشن کیلئے دعائیں نکلتیں ، نوجوانوں کے ایمانی جذبوں کو حرارت ملتی، لشکر بنتے ، وکلاءو طلباء، تاجر صحافی میدان میں نکلتے ناموس رسالتﷺ و ناموس صحابہؓ و اہلبیتؓ کے تحفظ کیلئے چوکیدار، پہرے دار بنتے، دشمنان صحابہؓ کو خبردار کرتے، سنیت کو بیدارکرتے۔
ادیب و مصنف : حضرت فاروقیؒ مصنف اور ادیب ایسے کہ ان کے ادب تحریری کی لطافت سے بڑے بڑے ادیب لطف انددوز ہوتے۔ مصنف ایسے کہ تقریبا44سال کی مختصر عمر میں تتنظیمی ، تحریکی مصروفیات کے باوجود 80سے زائد کتابیں لکھ کر امت کے عقائد و نظریات کی رکھوالی کی۔”النقیب“ اخبار کے ایڈیٹر کی حیثیت سے سعودی عرب کے قومی دن پر خصوصی اشاعت شائع کرکے ان کے سفیر ریاض الخطیب سے داد تحسین لیتے ہیں، کتابوں میں سے خاص کر جو قابل ذکر ہیں وہ” رہبر و رہنماء،صحابہؓ کی آئینی حیثیت ، تعلیمات اہلبیتؓ، خمینی ازم اور اسلام،تاریخی دستاویز“ ہیں۔ ان تصانیف نے جہاں اہل اسلام میں بیداری غیرت و حمیت پیدا کی ہے وہاں یہ تحریریں دشمنان صحابہؓ کو بھی ناکو چنے چبوانے کا سبب بنی ہیں۔ زور بیان کی طرح زور قلم کی نوک و سنان بھی خوب تھی۔ انقلابی ، علمی ، تاریخی، معلوماتی تصانیف کے ذخیرہ گراں قدر نے مسلمانوں کو تحفظ ناموس صحابہؓ و اہلبیتؓ کی طرف مائل اور دشمنان صحابہؓ کو ایسا گھائل کیا کہ ماضی قریب میں اس کی مثال نہیں ملتی، مطالعہ اور لکھنے کا خاصاذوق تھا۔ سفر میں حضر میں جیل یاریل میں دن رات جب بھی موقع ملتا قلم ہاتھ میں ہوتا اور دماغ کا نچوڑ قرطاس ہوتا۔
متکلم: حضرت فاروقی ؒ متکلم اور حاضر جواب ایسے کہ مخاطب کو فوراََ جواب دیکر ورطہ حیرت میں ڈال دیتے محفل کا رنگ ڈھنگ بلد جاتا۔ 28ستمبر 1991گورنر ہاﺅس لاہور میں وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے فرقہ واریت کے خاتمہ کے اجلاس میں سینکڑوں علماءکرام کی موجودگی میں جبکہ خطیب ایشیاءمولانا ضیاءالقاسمی ؒ۔ حضرت فاروقی ؒ سمیت تمام حضرات اپنا مو¿قف دشمنان صحابہؓ کے خلاف پیش کرکے گستاخ صحابہؓ کے لئے سزائے موت پر اتفاق رائے کرواچکے تو افتخار اور ریاض نقوین نے تقیہ بازی کرتے ہوئے کہاکہ”ہم تو صحابہ کرامؓ کا اتحرام کرتے ہیں ان کی گستاخی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہمیں خوامخواہ اور الزام دیا جاتا ہے ورنہ ہم سزائے موت کے قانون کی تائید نہ کرتے“۔ اس شاطر انہ گفتگو نے علماءبریلوی، دیوبندی، غیر مقلد سب کو متاثر کیا ور وہ کہنے لگے جی جزاک اللہ پھر سزائے موت کے قانون اور کافر کے نعرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزیر اعظم نے بھی تائید کرکے اجلاس برخاست کردیا۔ حضرت فاروقیؒ جھٹ سے کھڑے ہوگئے اور کہا ”جناب وزیر اعظم مجھے کچھ کہنے کا وقت دیاجائے“نواز شریف نے کہا آپ اپنی بات کہہ چکے ہیں ۔ حضرت نے فرمایا : شیعہ نمائدنہ نے جھوٹ بولا ہے میں وضاحت کرنا چاہتاہوں اور اگر میری بات نہ سنی گئی تو اجلاس سے باہر کسی کو نہ جانے دونگا۔ چند منٹ کی نوک جھونک کے بعد حضرت فاروقیؒکوموقع دیا گیا حضرت فاروقی ؒ نے خمینی کی ”کشف اسرار“ اور نجفی کی ”تحفہ جعفریہ“ کے صرف دو حوالے پیش کئے وزیر اعظم سمیت سب کانوں کو ہاتھ لگانے لگے۔ دو منٹ میں حضرت فاروقیؒ نے اپنے انداز تکلم سے جو صداقت پر مبنی مو¿قف پیش کیا تو اجلاس کی کایا پلٹ گئی اور سب علماءو زعماءسراپا غیض وغضب ہوگئے۔ وفاقی وزیر عبدالستار نیازی نے کہا کہ اس کافر کو سخت سزا ہوگی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے فرمایا مولانا فاروقی شاباش آپ نے صحابہ کرامؓ کی وکالت اور اہلسنت کی وکالت کا حق اداکردیا۔
مو¿رخ اسلام: حضرت فاروقیؒ مو¿رخ اسلام بھی تھے مو¿رخ ایسے کہ تاریخ کا ذخیرہ گویا کہ سراپامو¿دب آپ کے سامنے کھڑا ہوتا۔ سیرت وتاریخ کا مطالعہ بھی وسیع تھا حیرت انگیز واقعات نایاب معلومات صحابہؓ و تابیعنؓ علماءکے تاریخی کارنامے صحابہ کرامؓ و اہلبیتؓ کی باہمی انساب، مذاہب عالم کی معلومات دنیا کی جغرافیائی سرحدیں ماضی ، حال اور مستقبل کے آئینہ میں تنفیذ اسلام کا نقشہ کفر کی سازشوں کا جال ، جب یہ سب کچھ بیان فرماتے تو صدیوں کی تصویر سامنے آجاتی ، تاریخ کی پیشانی سے دھول جھٹک جاتی، مدینہ طیبہ طائف کی وادیوں ، بدرو احد کی پہاڑیوں ، دجلہ فرات و نیل کی گوشہ چینیاں سب مناظر لاکر سامنے رکھ دیتے۔
ایک مدبر قائد:حضرت فاروقیؒ ایک مدبر بھی قائد بھی تھے مدبر ایسے کہ حالات کے سنگلاخ راستوں پر اپنے خدادا حسن وتدبر سے ایسے ایسے کارنامہ ہائے حسین سرانجام دیئے کہ دیکھنے والوں کی عقل دنگ رہ گئی۔ حضور اکرمﷺ کی رحلت صحابہ کرام ؓ کیلئے قیامت صغریٰ سے کم نہ تھی صدمے سے نڈھال صحابہ ؓ میں سے کسی نے کہا میرے کان اور آنکھیں نہ رہیں، کسی نے کہا میں اس کو قتل کردونگا جو کہے گا کہ حضورﷺ وفات پاگئے، دریں حال یہ سوال بھی اٹھا کہ اب کیاہوگا۔۔۔؟ ہادی و رہبر کون ہوگا۔۔۔۔؟ ان سب سوالات کا جواب کسی کے پاس نہ تھا تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ جو کہ رفیق نبوتﷺ ،رفیق نبوتﷺرفیق روضہ شناس نبوتﷺتھے مقام سخ سے خبر پاکر تشریف لائے اور چہرہ انور سے نقشین یمنیٰ چادر ہٹا کر بوسہ دیا اور فرمایا: میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان آپﷺ کی حیات و رحلت دونوں پاک تھیں۔ آپﷺ پر دو موتیں جمع نہ ہونگی اور پھر ایک مو¿ثر خطبہ ارشاد فرمایا اور امت کی رہنمائی بھی کی، ڈھارس بندھائی اور ابر رحمت بن کر سایہ فگن رہے، اسی طرح جب موالاناحق نواز جھنگوی ؒ کی شہادت ہوئی تو یہ جماعت کیلئے اتنے بڑے سانحے کا پہلاواقعہ تھا تو فطرتی طور پر ہر طرف یہ سوال اٹھا کہ اب کیا ہوگا۔ تحفظ ناموس صحابہؓ کے مشن کا بار کون اٹھائے گا، دشمن کو حق نوازؒ کے لہجے میں کون للکارے گا، سنی حقوق کی بات ، مظلوموں کی داد رسی کون دے گا۔ اسیران ناموس صحابہؓ کی حوصلہ افزائی شہداءکے یتیم بچوں کی معاونت و دلجوئی کون کرے گا، اسیران و شہداءکے افسردہ حال والدین کو تسلیاں کون دے گا۔ بیوگان ، بے سہارا بہنوں ، بچیوں کے اجڑے سہاگ کون آباد کرائے گا۔ قیادت کون کرے گا منزل تک مشن کیسے پہنچے گا۔ سن سب سوالوں کا جواب مشکل بھی تھا اور ہر ایک سے ناممکن بھی کیونکہ حالات کی سنگینی ، موت کا خوف ، جیل اور ٹاچر سیلوں کی بے رحم فضائیں ، اپنے بے گانوں کے طعنے ، کون حوصلہ کرتا ہے اس آتش کدے میں کودنے کا ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت فاروقی شہیدؒ کا 6مارچ 1991کو انتخاب فرما کر جماعت پر احسان عظیم فرمایا۔ حضرت فاروقی شہیدؒ والدہ سے اجازت لیکر اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتے ہوئے بھی میدان میں اترتے ہیں اور خودزخمی سینہ ، زخمی دل کے باوجود جماعت پر دست شفقت فرماتے ہوئے اپنے خدادحسن تدبر اور قائدانہ صلاحیتون سے چند ہفتوں میں ہی جماعت کو ایسے چار چاند لگاتے ہیں کہ دشمنان صحابہؓ جیسے ظالموں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جماعت کو تنظیمی مضبوط سانچے میں ڈھال کر ملک اور بیرون ملک ہزاروں یونٹ قائم کردیئے جاتے ہیں۔ اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں میں ونگز ، فورمز ، ویلفیئر ترتیب دیکر اور خواتین کو بھی متوجہ کرکے ان سب کے ہاتھ میں علم ناموس صحابہؓ تھما کر ان کو بھی اہلبیت ؓ کا چوکیدار بنادیتے ہیں اوردوسری طرف شہداءکی بیوگان ، یتیم بچون کیلئے وظائف مقرر فرمائے ، اسیران کے مقدمات و رہائی کیلئے وکلاءکا انتطام فرمایا ، مشن ناموس صحابہؓ کو ایوانوں، حکمرانوں، بیابانوں ، میدانوں میں پہنچایا۔ پھر اپنی مدبرانہ سوچ و فکر سے گوشہ گمنامی میں چھپے ایسے رجال کار سامنے لائے کہ جنہوں نے اپنی صلاحیتوں اور اوصاف حسنہ سے تنظیم و تحریک میں ایک نئی روح پھونکی ۔ جیسا کہ حضرت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ حضرت فارقیؒ ہی کی مدبرانہ دریافت تھی۔
مفکر اسلام:حضرت فاروقیؒ مفکر اسلام ایسے کہ امت مسلمہ کی حالت زار سے اور کفر کی برتری سے دل گرفتہ ہوکر ہر وقت فکر مند رہتے کہ دنیا میں اسلام کا غلبہ کیسے ہو اور رکاوٹ ڈالنے والے فرعونوں ، نمرودوں سے کیسے نمٹا جائے اور یہی فکر حضرت حق نواز شہیدؒ کی بھی تھی ۔ اسی فکر کو حضرت فاروقیؒ اپنی تحریروں و تقریروں میں بڑی دلسوزی کیساتھ پیش کرتے ۔ اسی فکر کو ان کی تصنیف خلافت و حکومت ، طلوع سحر اور خلافت ورلڈ آرڈرسے سمجھا جاسکتاہے۔
مذہبی اسکالر:حضرت فاروقیؒ مذہبی سکالر ایسے کہ بڑے بڑے وکلاءو صحافی حضرات ان کی بریفنگ سن کر انگشت بدندان رہ جاتے۔ مذکورہ طبقات کے سامنے گفتگو کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اچھے خاصے علمی آدمی کو بھی مذبذب کردیتے ہیں۔ ساجد نقوی کو بھکروکلاءبار سے بار بار پانی پیتے ہوئے دیکھاگیا، جبکہ حضرت فاروقیؒ ہر طبقہ کے سامنے کھل کر اظہار خیال فرمالیتے۔ ایک مرتبہ پشاور بار سے خطاب کیا مشن اور صحابہؓ پر جس سے وکلاءجھوم اٹے ۔ نیشب و فراز ، گرہیں و الجھنیں ایسی سلجھا کر سامنے رکھیں کہ سوالات کی گنجائش ہی نہ چھوڑی۔
سیاست دان: حضرت فاروقیؒ بہترین سیاست دان بھی تھے۔ ایسے کہ خودسیاسی بصیرت رکھنے کے باوجود مولانا ایثارالقاسمیؒاور مولانا محمد اعظم طارقؒکواسمبلی کا ممبربناتے ہیں اور خود سرپرستی فرماکر خصوصاََ جھنگ سے دشمنان صحابہؓ کی سیاست کا جنازہ نکال باہر کیا۔
بہترین دوست: حضرت فاروقیؒ بہترین دوست بھی تھے۔ حضرت حق نواز جھنگویؒ سے دوستی دوران طالب علمی شروع ہوئی پھر جماعت میں اکھٹے رہے اور سفر و حضر میں جماعت اور مشکلات میں جیل اور ریل میں ساتھ نبھاتے رہے یہاں تک کہ آج قبر میں بھی اسی جگہ پرساتھ آرام فرماہیں اور انشاءاللہ کل قیامت کے روز بھی جنت میں ساتھ ہونگے۔
اسیر محبت:حضرت فاروقیؒ ایسے اسیر تھے کہ اپنے اور غیر سب ان کی علمیت ، ذہانت ، اخلاق ، جرا¿ت کے اسیر ہوجاتے۔ وہ جیل میں بھی رہ کر اپنے آپ کو اپنے بچوں کو بھول کر امت کی خدمت کرتے رہے ، اسیران ناموس صحابہؓ کے دھارس بنے رہے، آزاد فضاﺅں میں رہنے والوں کی رہنمائی کرتے رہے اور حکمرانوں کو جیل سے پیغام حق اور دشمنانِ صحابہؓ کو پیغام اجل سناتے رہے ۔ پاکستان کے مختلف جیلوں میں11مرتبہ گرفتار ہوئے جس کی مدت17ماہ 21دن بنتی ہے۔
استقامت:دوران گرفتاری یا آزاد فضاﺅں میں بڑی بڑی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ متعدد مقدمات ، حملے ، پابندیاں اور دھمکیاں مگر بحمد اللہ پائے استقامت میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوئی۔ استقامت کے پہاڑ سراپا خندہ پیشانی چہرے پر مسکراہٹ سجائے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
شہید مظلوم:حضرت فاروقیؒ 18جنوری1997ءلاہور سیشن کورٹ میں بم دھماکے میں جام شہادت نوش فرماتے ہیں۔ شہید بھی ایسے کہ روزہ رکھ کر حضرت عثمانی غنیؓ کی طرح جام شہادت نوش فرما کر آخرت میں جاکر افطارکرتے ہیں اور جنازہ مثل امام ابوحنیفہؒ جیل سے نکلتا ہے جبکہ زبان حق ترجمان سے یہ جملہ ادا فرمادیا کہ اللہ میں تیری رضا پر راضی ہوں۔
اناللہ وانا الیہ راجعون
کیا لوگ تھے جو راہ جنوں سے گذر گئے
جی چاہتاہے نزش قدم چومتے چلیں

Facebook Comments

POST A COMMENT.