علی الاعلان غیرمسلم اقلیت تسلیم اور اعلان کیے بغیر قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں شمولیت کسی صورت بھی منظور نہیں، اہلسنّت والجماعت پاکستان

کراچی ( 30 اپریل 2020 ء) علی الاعلان غیرمسلم اقلیت تسلیم اور اعلان کیے بغیر قادیانیوں کی اقلیتی کمیشن میں شمولیت کسی صورت بھی منظور نہیں، اہلسنّت والجماعت پاکستان دیگر مذہبی وسیاسی جماعتوں اور کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کی قادیانیوں کے حوالے سے تحفظات اور تشویش پر اپنے مسلم بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر اہلسنّت والجماعت پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی،صدر کراچی علامہ رب نوازحنفی،علامہ تاج محمد حنفی،سیدمحی الدین شاہ،مولانا شکیل فاروقی،مولاناعادل عمر ودیگر نے اپنے مشترکہ مذمتی بیان میں کیا،علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ سب سے پہلے قادیانی خود کو اعلانیہ طورپر غیرمسلم اقلیت تسلیم کرے اس کے بعداقلیتی کمیشن میں بحیثیت اقلیتی رکن شمولیت پر اہلسنّت والجماعت پاکستان سوچے گی، اگر اکابرین علماء اہلسنّت نے قادیانیوں کی اعلانیہ خودکوغیر مسلم قرار دینے کی بات سے مطمئن ہوگی اوراسے تسلیم کرے گی تو اہلسنّت والجماعت بھی تسلیم کرے گی اس کے بغیرکوئی بھی بات کسی کی بھی تسلیم نہیں کی جائے گی،جب سے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردیاگیاہے،اُس دن سے آج تک کبھی بھی قادیانیوں نے خودکو غیرمسلم تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ دنیابھرمیں خودکو مسلمانوں کے ایک فرقے کے طورپرپیش کرتے آرہے ہیں ایسے میں اچانک نیازی حکومت کا موجودہ اعلان سمجھ سے بالاتر اور اسلام اورمسلمانوں کیخلاف گہری سازش معلوم ہوتی ہے،  قادیانی جب تک آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک انہیں کوئی سرکاری پلیٹ فارم مہیا کرنا افسوس ناک ہے،حکمران موجودہ نازک حالات میں قادیانیت کے گڑے مردے اکھاڑنے سے گریز کرے،قادیانیوں کی آئینی،مذہبی،سماجی اور معاشرتی حیثیت کے تعین کیلئے طویل جدوجہد کی گئی،آئین پاکستان میں قادیانیوں کی حیثیت کا تعین راتوں رات نہیں ہوا کہ جسے اچانک بدل دیا جائے
 بلکہ جس طرح آئینی ترمیم کے پیچھے برسوں ہوم ورک کیا گیا اسی طرح قادیانیوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے مطلوبہ ہوم ورک اور قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے، قائدین اہلسنّت نے متنبہ کیا کہ آئے روز قادیانیوں کے بارے میں نئے نئے شوشے چھوڑنے کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے ورنہ اس کے ہر اعتبار سے منفی اثرات مرتب ہوں گے،
Attachments area

Facebook Comments

POST A COMMENT.