حضرت ابو بکر صدیق : مختصر تعارف اور فضائل اور مناقب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ؓآپ ابو بکر صدیق کی کنیت ابو بکر بن ابی قحافہ التیمی اور نام عبداللہ بن عثمان بن عامر القرشی ہے، آپ پہلے خلیفہ راشد ہیں۔ اور آپؓ سابقین اولین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور آپؓ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں، آپt نے دین متین کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ لگایا، اور جناب رسول اللہ ﷺکا بہادروں کی طرح دفاع کیا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپtکی وجہ سے دین اسلام کی حفاظت فرمائی اور آپtکو ایمان و یقین کی دولت سے سرفراز فرمایا، آپtاہل ایمان والوں کیلئے امام اور رحم دل تھے اور منافقوں اور اہل ارتد اد والوں کیلئے برہنہ تلوار تھے، آپtکی ولادت باسعادت عام الفیل کے ڈھائی سال بعد ہوئی۔ آپtاس حالت میں جوان ہوئے کہ زمانہ جاہلیت کی گندگی سے آپ کوسوں دور رہے۔ اور آپ اخلاق عربیہ کے زیور سے آراستہ تھے۔ آپtحسن معاشرت اور وعدے کے سچے تھے، آپtنے اسلام لانے سے پہلے ہی اپنے اوپر شراب نوشی حرام کرلی تھی، آپt لوگوں کے ساتھ جودوکرم کا سلوک کیا کرتے تھے، ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے تھے اورکمزوروں کی دل داری کرتے تھے، آپt عرب کے تمام قبیلوں اور شاخوں سے واقف تھے آپt سید السادات تھے اور بلند شان رکھتے تھے۔
نیز آپt تجربہ کار تاجر اور صاحب بصیرت انسان تھے، آپt خواب کی تعبیر بتانے کے بھی ماہر تھے۔ آپt کی ذات میں کوئی قابل عیب چیز نہ تھی، آپ t ذہین و فطین اور صاحب الرائے بھی تھے آپ t خوبرو اور حسین چہرہ کے مالک تھے، رنگ سفید اور جسم دبلا تھا، آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، چہرے پر گوشت کم تھا، پیشانی روشن تھی اور داڑھی مبارک ہلکی تھی نیز آپt جناب رسول اللہ e سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔ آپt بلا تر در اور بلاتامل مسلمان ہوئے۔ آپt نے دین کی خدمت اور کمزور مسلمانوں کو غلامی سے آزادی دلانے کیلئے اپنا مال وقف کر دیا۔ آپt جب ایمان لے آئے تو آپt مشرکین کی اذیتوں سے دوچار ہوئے اور جب انکی تکلیفیں اور اذیتیں حد سے بڑھ گئیں تو آپ t نے مکہ کو چھوڑ کر وہاں سے ہجرت کرلی۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں ابن الدغنہ کی پناہ میں واپس آگئے لیکن بعد میں اسکی پناہ کو بھی رد کردیا اور آپt نے رب کریم کے دین کا علم بلند کیا، آپt نے واقعہ معراج میں بھی آنحضرت eکی تصدیق کری اور آپeکا خوب دفاع بھی کیا۔ جسکی وجہ سے نبی کریم e نے آپt کو ’’صدیق‘‘ کے لقب سے نوازا، آپt نے اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ عفیفہ و طاہرہ rکا نکاح آنحضرتe سے کیا۔
آپt نے سحری کے وقت حضور اکرم e کے ساتھ ہجرت فرمائی، اور آپ غار ثور میں ’’ثانی اثنین‘‘ تھے حضور اکرم e کے ساتھ کئی غزوات میں شریک رہے مشکلات کا مقابلہ کیا اور کافروں سے لڑائیوں میں جو انمردی دکھائی۔
اللہ تعالیٰ نے آپt کو فتوحات سے نوازا، آپt بڑے شب بیدار اور دن کو روزہ رکھنے والے تھے آپt دنیا سے بے رغبت اور دین کے عالم اور اسی پر عمل کرنے والے تھے، آپt نے اپنی زندگی میں نیکی کی کوئی راہ نہیں چھوڑی۔ آپt بڑے نرم طبیعت والے تھے کہ آنسو بہت جلد نکل آتھے تھے، آپt متقی اور پرہیز گار تھے، جناب رسول اللہ eنے آپt کو جہنم سے آزادی اور نیک لوگوں کے ہمراہ جنت میں داخل ہونے کی بشارت سنائی۔
جب لوگوں نے آپt کے دست مبارک پر بیعت کی تو آپt اُسے چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گئے، لیکن جب لوگوں نے آپt کو اپنا امام بنانا طے کرلیا تو آپt نے حضرت اسامہt کا لشکر روانہ کیا مرتدوں اور زکوٰۃ نہ دینے والے سرکشوں کے خلاف جہاد وقتال کرنے کیلئے، اسکے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں اسلامی لشکر روانہ کئے۔ جس کے دبدبے سے بادشاہوں کے قدم ڈگمگا گئے اور ایوان ہل گئے، آپt کو اس میں کامیابیاں اور فتوحات حاصل ہوئیں، آپt نے قرآن کریم جمع کیا اور دین اسلام اور ایمان کی اشاعت فرمائی، آپt کی نظر میں کمزور شخص طاقتور تھا یہاں تک کہ وہ اپنا حق وصول کرلے اور طاقتور آدمی کمزور تھا جب تک کہ اس سے دوسرے کا حق وصول نہ کرلیا جائے۔ آپ t خود پیدل چلتے لیکن دوسرے سپہ سالار سوار ہوتے تھے۔ آپt خود اپنے ہاتھ سے بکریوں کا دودھ نکال کر محلہ کے بچوں کو دیتے اور پیتے، آپt نے چار شادیاں کیں اور آپt کی اولاد میں چھ6 لڑکیاں تھی۔
آپ t نے بلا تامل اسلام قبول کیا
تاریخ اسلام کے شہسوار حضرت ابو بکر صدیق t نے ایک دن قریش کی زبانی ایک بات سنی جسکی وجہ سے قریش کے لوگ آپ t کے دوست محمد امین eکو طعن و تشنیع کا نشانہ بٹا رہے تھے۔ آپt فوراً آنحضرت eکے پاس پہنچے اور آپ کی خدمت میں دوزانو ہو کر نرم انداز میں جناب رسول اللہ eسے دریافت کرنے لگے، اے محمد e ! قریش مکہ جو کہہ رہے ہیں کہ آپ نے انکے معبودوں کو چھوڑ دیا ہے اور انکو بے وقوف قرار دیا ہے کیا یہ بات حق اور درست ہے؟
رسول اللہ eنے فرمایا: ہاں میں اللہ کا رسول اور اسکا پیغمبر ہوں مجھے اللہ نے اسی لئے مبعوث فرمایا کہ میں اسکے پیغام کو لوگوں تک پہنچائوں اور میں تجھے بھی اللہ کی طرف حق کے ساتھ دعوت دیتا ہوں۔ خدا گواہ ہے کہ یہ بات حق ہے، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقt مسلمان ہوگئے انہوں نے اسلام قبول کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، اسی لئے کہ وہ حضورeکے صادق ہونے اور انکے عمدہ اخلاق سے واقف تھے اور جب صدیق اکبر t نے لوگوں کی بات کو نہیں جھٹلایا تو بھلا اللہ تعالیٰ کی بات کو کیسے جھٹلاتے؟
نبی اکرم e نے ارشاد فرمایا کہ ’’ میں نے جب بھی کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے پس پشت کیا اور کچھ نا کچھ غور فکر کیا لیکن جب حضرت ابو بکر tکے سامنے اسلام کی دعوت پیش کری تو انہوں نے بلا تردد اور بلاتوقف اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ ‘‘
(السیرۃ النبویۃ ۲/۲۵)
اگر حضور eنے فرمایا ہے تو سچ ہی فرمایا ہے
چاشت کے وقت آنحضرت eبیت اللہ میں تشریف فرما تھے اور وہاں ذکر و تسبیح میں مشغول تھے کے خدا کے دشمن ابوجہل کی نظر آپ eپر پڑی جو کہ بیت اللہ کے اردگرد بے مقصد چکر لگا رہا تھا، وہ بڑے فخر و تکبر کے انداز میں حضور پرنور eکے قریب آیا اور ازراہ مزاح کہنے لگا۔ اے محمد! کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے؟ حضور eنے فرمایا: ہاں آج کی رات مجھے معراج کرائی گئی ہے۔ ابو جہل ہنسا اور تمسخر کے انداز میں کہنے لگا: کس طرف؟ حضور اکرم e نے فرمایا: بیت المقدس کی طرف، ابو جہل نے تھوڑی دیر کیلئے ہنسنے سے توقف اختیار کیا اور پوچھنے لگا: اے محمد ! اگر میں سب لوگوں کو جمع کروں تو کیا آپ یہ بات ان سب کو بھی بتائو گے؟ حضور e نے فرمایا: ہاں میں انکو بھی بیان کردوں گا، چنانچہ ابو جہل خوشی خوشی لوگوں کو جمع کرنے لگا اور تھوڑی ہی دیر میں اس نے لوگوں کا ایک ازدحام جمع کرلیا لوگ اظہار تعجب کرنے لگے ابو جہل کی خبر پر، اسی دوران چند آدمی ابو بکر صدیق t کے پاس بھی گئے اور انکو بھی اسی امید پر انکے رفیق اور دوست کی خبر سنائی کہ شاید یہ خبر سن کر انکے درمیان جدائی اور علیحدگی ہوجائے اور وہ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ ابوبکرt اس خبر کو سن کر ان کی تکذیب کردیں گے، لیکن جب حضرت ابو بکر صدیقt نے یہ بات سنی تو فرمایا کہ ’’اگر یہ بات حضورe نے فرمائی ہے تو یقینا درست فرمائی ہے۔‘‘
پھر حضرت ابو بکر صدیقt جلدی سے اسی جگہ پر پہنچے جہاں آپ e تشریف فرما تھے اور لوگوں کے اردگرد بیٹھے تھے اور حضور اکرم e ان لوگوں کو بیت المقدس کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ جب بھی آپ eکوئی ارشاد فرماتے تو صدیق اکبرt فرماتے کہ آپe نے سچ فرمایا۔ پس اسی روز سے آپ eنے حضرت ابو بکرt کا نام الصدیق رکھ دیا تھا۔ (البدایۃ والنھایۃ ۳/۱۱۳)
ابو بکر t کی ایک رات، عمرt کے سارے خاندان سے بہتر ہے
ایک دن صبح سویرے بیٹھے کچھ لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے۔ ان باتوں میں ایک بات یہ تھی کہ لوگ حضرت عمرt کو حضرت ابو بکر صدیق t پر فوقیت اور فضیلت دے رہے تھے، یہ بات اڑتی ہوئی امیر المومنین حضرت عمر بن خطابt تک پہنچ گئی۔ چنانچہ حضرت عمر t دوڑتے ہوئے آئے اور لوگوں کے بھرے مجمع میں کھڑے ہو کر فرمایا: خدا گواہ ہے ابو بکرt کی ایک رات۔ عمرt کے سارے خاندان سے بہتر ہے اور ابو بکرt کا ایک دن عمرt کے خاندان سے بہتر ہے پھر حضرت عمر t نے لوگوں کے سامنے صدیق اکبرt کا ایک واقعہ بیان کیا تاکہ لوگوں کو حضرت ابو بکر صدیقt کا مقام و مرتبہ معلوم ہو۔ حضرت عمرt نے فرمایا: ایک رات رسول اکرم e غار کی طرف جانے کیلئے نکلے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکرt بھی ۔ ابوبکرt راستہ میں چلتے ہوئے کبھی آنحضرت eکے پیچھے پیچھے چلتے اور کبھی حضور e کے آگے آگے چلتے۔ یہاں تک رسول اللہ e کو جب اسکا علم ہوا تو آپe نے پوچھا: اے ابو بکر tکیا وجہ ہے کہ کبھی تم میرے آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے ہو؟ حضرت ابو بکرt نے بڑے غمزدہ لہجہ میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کبھی آپ کے پیچھے چلتا ہوں تاکہ دیکھوں کوئی آپ کو تلاش تو نہیں کر رہا ہے اور کبھی آپ کے آگے چلتا ہوں تاکہ دیکھوں کوئی دشمن گھات لگا کر آپ کے انتظار تو نہیں کر رہا ہے۔ جب دونوں غار میں پہنچ گئے تو حضرت ابو بکر t نے حضور اکرمeکو کہا یا رسول اللہ eآپ ٹھہریے! پہلے مجھے اسی غار میں داخل ہونے دیں کیونکہ اگر کوئی سانپ یا مضر جانور اندر ہو تو وہ پہلے مجھے نقصان پہنچائے۔ آپ e کو نہ پہنچائے۔ ابو بکرt غار کے اندر گئے اور غار کے اندر تمام سوراخوں کو کپڑے سے بند کر دیا۔ جب سارا کپڑا اس میں لگ گیا تو دیکھا ایک سوراخ باقی رہ گیا ہے تو اس پر اپنا پائوں رکھ لیااور پھر آپ e اس غار میں داخل ہوئے۔ جب صبح ہوئی اور ہر طرف روشنی پھیل گئی تو آنحضرت e کی صدیق اکبرt پر نظر پڑی تو دیکھا آپ کے بدن پر کپڑا نہیں ہے، تو آپ eنے متعجب ہو کر پوچھا اے ابو بکرt تمہارا کپڑا کہاں ہے؟ حضرت ابو بکر t نے سارا واقعہ آپe کو بتایا تو نبی کریمe نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ! قیامت کے دن ابو بکرt کو میرے ساتھ میرے درجہ میں کردے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کی دعا قبول کرلی ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر بن الخطابt نے فرمایا: اس ذات کی قسم جسکے قبضہ میں میری جان ہے، ابو بکرt کی وہ رات عمرt کے خاندان سے زیادہ بہتر ہے۔ (البدایۃ والنھایۃ ۳/۱۸۰)
زہریلے سانپ کا ڈسنا
حضور اکرمe اور آپ کے رفیق حضرت ابوبکر صدیقt غار کے اندر روپوش ہوگئے، تاریک رات ہے اندھیرا چھارہا ہے۔ آپe کو نیند آرہی ہے۔ چنانچہ آپ e نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ حضرت صدیق اکبرtکی گود کی اپنا سر مبارک رکھا اور سوگئے۔ اسی دوران حضرت ابوبکرt کے اسی پائوں کو زہریلے سانپ نے ڈس لیا جس پائوں کے ساتھ انہوں نے سانپ کے بل کو بند کیا ہوا تھا۔ لیکن آپt نے اس ڈر سے کہ کہیں رسول اللہ e بیدار نہ ہوجائیں۔ ذرا بھی حرکت نہیں کی لیکن کچھ ہی دیر بعد آپ t کی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ درد کی شدت کی وجہ سے رسول اللہeکے چہرہ مبارک پر گرا جس سے آپe کی آنکھ کھل گئی۔ آپe نے پوچھا اے ابوبکر t کیا بات ہے؟ حضرت ابوبکرt نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان! سانپ نے ڈس لیا ہے۔ جناب نبی اکرمe نے اپنا لعاب دہن مبارک اسی پر لگایا تو سانپ کا ڈسا ہوا درد ایسا ختم ہوا کہ گویا جیسے سانپ نے ڈسا ہی نہ ہو۔
غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے
اُدھر شریک کے زہریلے اور خطرناک سانپ اور کفر کے سردار شیاطین، حضور اقدسe اور آپ کے یارِ غار کی تلاش میں تیزی سے نکلے۔ ہر مقام پر ہر جگہ پر گئے یہاں تک کہ جبل ثور پر آپہنچے اور اسی غار کے دروازہ کے پاس آکر کھڑے ہوگئے جس غار میں آپ اور آپ کے صاحب چھپے ہوئے تھے۔ ابوبکرt کی جب ان کافروں پر نظر پڑی تو گھبرا گئے اور پریشان ہونے لگے کہ کہیں یہ لوگ حضورe کو دیکھ نہ لیں۔ رسول اللہe نے ان کی طرف دیکھا تو انکے غم کو ختم کرنے کے لئے آہستہ آواز میں فرمایا ’’غم نہ کرو! بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘ اور فرمایا اے ابوبکرt! تمہارا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے جن کا تیسرا خود اللہ ہو؟ جب یہ وحی نازل ہوئی تو ابوبکر صدیقt کو اطمینان قلب حاصل ہوگیا تھا۔

میں اپنے رب سے راضی ہوں
ایک دن حضرت ابوبکر صدیقt پھٹے پرانے اور بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے رسول اللہeکے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی کپڑے کے کنارہ کھجور کی شاخوں اور نباتات کی لکڑیوں سے جوڑے گئے تھے۔ حضرت جبرائیلh نازل ہوئے اور دریافت کیا: اے محمدe! کیا وجہ ہے کہ میں ابوبکرt کے جسم پر ایسی بوسیدہ عباء (جوڑا) دیکھتا ہوں جس کو اس طرح سے جوڑا گیا ہے؟ حضورe نے فرمایا: ’’جبرائیلh ! ابوبکرt نے اپنا سارا مال فتح مکہ کے موقع پر خرچ کردیا تھا اسی لئے اب یہ حالت ہے۔ جبرائیلh نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر صدیقt کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپ e سے فرمارہے ہیں کہ آپ ابوبکرt سے پوچھیں کہ کیا وہ اس حالت فقر میں اللہ سے خوش ہے یا ناخوش ہیں؟ حضور اکرمe نے پوچھا: اے ابوبکرt! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور آپt سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپt اس حالاتِ فقیرانہ پر اللہ تعالیٰ سے خوش ہیں یا ناخوش؟ حضرت ابوبکرt نے فرمایا: کیا میں اپنے رب سے ناخوش ہوسکتا ہوں؟ پھر ازراہِ عشق و محبت میں فرمانے لگے: میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں، میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ (رواہ ابو نعیم فی ’’حلیۃ الاولیاء‘‘ ۷/۱۰۵)
الغرض سیدنا صدیق اکبرt عظیم المرتبت اور رقیق القلب صحابی رسولe تھے۔ دنیا میں بھی حضورe کے رفیق تھے اور قبر میں بھی آپe کے مصاحب بنے۔ نیز حوضِ کوثر پر بھی آنحضرت e کے جلیس اور پیشی کے دن بھی آپe کے رفیق ہوں گے۔
حضرت ابوبکر صدیقt نے ۲۲جمادی الثانی ۱۳؁ھ کو مدینہ منورہ میں وفات پائی اور حضرت عمر فاروق t نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ خیر البریہ، خاتم الانبیاء جناب محمد رسول اللہe کے جوارِ مبارک میں مدفون ہوئے۔

از قلم
مولانا حسنین معاویہ
شعبہ نشرواشاعت
سیکٹر سیدنا ابوجندلt
لیاقت آباد ٹائون، کراچی

Facebook Comments

POST A COMMENT.